تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 740
تاریخ احمدیت 740 جلد ۲۰ کر تو یہ کیفیت تھی کہ جس طرف بھی دیکھیں مصافحوں، معانقوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا اور ہر طرف سے السلام علیکم اور وعلیکم السلام کی پر خلوص آواز میں آ رہی تھیں۔الہی آوازوں کے درمیان قافلہ کا سفر لا ہورتا قا دیان بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔دعاؤں اور ذکر الہی کا ذوق و شوق۔قافلہ قادیان نے یہ مقدس سفر صرف دعاؤں، ذکر الہی اور شعائر اللہ کی زیارت کیلئے اختیار کیا تھا۔ممبران قافلہ نے اس مقصد کو ہر وقت پہیں نظر رکھا۔چنانچہ دارا صیح قادیان میں پہنچتے ہی بہت سے اصحاب جن میں متعدد ضعیف العمر بزرگ بھی شامل تھے۔پورے دن کے سفر کی کوفت اور تھکان کے با وجو دسب سے پہلے اس مقدس اور بابرکت مسجد میں نوافل کی ادائیگی کیلئے جا حاضر ہوئے۔جہاں سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام نمازیں پڑھا کرتے تھے۔اور جو مسجد مبارک کے نام سے موسوم ہے اور جن اصحاب کو وہاں پہنچتے ہی بیت الدعا میں جا کر نوافل ادا کر نے اور دعائیں کرنے کا موقعہ میسر آ گیا۔وہ تو اپنی خوش بختی پر بجا طور پر نازاں تھے۔الغرض وہاں جاتے ہی احباب شعائر اللہ کی زیارت کرنے اور دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔انہوں نے اس امر کی پرواہ نہ کی کہ ان کا سامان بحفاظت پہنچ چکا ہے یا نہیں یا یہ کہ ان کی رہائش کا انتظام کس جگہ کیا گیا ہے؟ یا کھانے کا کیا انتظام ہے۔انہوں نے ان سب امور کو نظر انداز کر دیا اور عاشقانہ انداز میں ان مقدس مقامات کی زیارت کے لئے کشاں کشاں جا ر ہے تھے۔جو قادیان کی روحانی برکتوں کی جان ہیں گو اُن کے جسم سفر کی کوفت کی وجہ سے مضمحل تھے لیکن ان کی روحوں پر اور ان کے قلوب پر اضمحلال کا مطلقاً اثر نہ تھا اور اثر ہوتا بھی کیوں جبکہ دیار حبیب کی جگہوں کی ایک ایک اینٹ انہیں خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اس سے اسلام اور احمدیت کی سر بلندی کیلئے انتہائی سوز و گداز کے ساتھ دعائیں کرنے کی دعوت دے رہی تھی۔نوافل کی ادائیگی، کھانا کھانے اور دیگر حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد پھر ملاقاتوں کا سلسلسہ شروع ہو گیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے برسوں کے بچھڑے ہوئے دوست آپس میں مل رہے ہیں یہ تھی رات کے ابتدائی اور درمیانی حصہ کی کیفیت۔اس کے تھوڑی دیر بعد ہی مسجد مبارک میں باجماعت نماز تہجد شروع ہو گئی اور اہل وفائے قادیان جن میں ممبران قافلہ کے علاوہ درویشان کرام اور ہندوستان کے طول و عرض سے آئے ہوئے احمدی احباب بھی شامل تھے۔جوق در جوق والہانہ اور عاشقانہ انداز میں مسجد مبارک میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔پرسوز دعاؤں التجاؤں اور مناجاتوں کا وہ اجتماعی سلسلہ شروع ہو