تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 738
تاریخ احمدیت 738 جلد ۲۰ تبدیل کرنا تھی اور گاڑی کے لاہور سے امرتسر پہنچنے اور وہاں سے بٹالہ جانے والی ٹرین کی روانگی میں اتنا کم وقفہ تھا کہ اگر ذرا بھی چیکنگ اور ضوابط کی دیگر کاروائیوں میں دیر ہو جاتی تو اہلِ قافلہ کو اگلی گاڑی نہ مل سکتی اور اس طرح انہیں مجبور أرات امرتسر سٹیشن پر گزارنا پڑتی لیکن دونوں ملکوں کی پولیس کسٹم اور ریلوے کے محکموں کے تعاون اور مدد کی وجہ سے قافلہ کو امرتسر کے سٹیشن پر گاڑی تبدیل کرنے کا موقع مل گیا۔لاہور میں پولیس اور کسٹم کے محکموں نے ضوابط کی تمام کا روائیاں یہ سرعت مکمل کرلیں اور محکمہ ریلوے کے تعاون کی وجہ سے گاڑی عین وقت پر روانہ ہو گئی۔علاوہ ازیں ریلوے کے محکمہ نے دو زائد بوگیوں کا بھی انتظام کر رکھا تھا جو اہل قافلہ کیلئے مخصوص تھیں یہ انتظام بھی مزید آرام کا موجب بنا۔جب گاڑی ہندوستان کی حدود میں داخل ہو گئی اور اٹاری کے سٹیشن پر پہنچی تو ہندوستان کے محکمہ کسٹم کے ارکان اور پولیس کے نمائندگان گاڑی میں سوار ہو گئے اور انہوں نے امرتسر کے سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے پہلے چیکنگ اور پاسپورٹ اکٹھے کرنے کے کام کی قریبا تکمیل کر لی حالانکہ عام حالات میں یہ چیکنگ امرتسر کے سٹیشن پر ہوتی ہے۔لیکن انہوں نے قافلہ کی سہولت کیلئے اور انہیں بر وقت اگلی گاڑی میں سوار ہونے کا موقع دینے کیلئے یہ چیکنگ راستہ میں ہی مکمل کر لی جس کے لئے وہ خاص طور پر شکریہ کے مستحق ہیں۔۔امرتسر کے سٹیشن پر متعدد درویش حضرات قافلہ کے استقبال اور ان کے لئے ضروری سہولتیں بہم پہنچانے کیلئے موجود تھے۔یہاں پر پاسپورٹوں کے اندراج اور ان کی واپسی میں کچھ وقت لگا۔جس کے بعد اہلِ قافلہ امرتسر سے بٹالہ جانیوالی ٹرین میں سوار ہو گئے۔اس ٹرین میں بھی اہل قافلہ کیلئے دو بوگیاں مخصوص تھیں۔جس کیلئے وہاں کے ریلوے حکام شکریہ کے مستحق ہیں۔یہاں سے روانہ ہو کر گاڑی دیر کا کتھو منگل اور جنتی پور میں ٹھہرتی ہوئی بٹالہ کے سٹیشن پر پہنچی۔جنتی پور کے سٹیشن پر درویشان قادیان اہلِ قافلہ کیلئے کھانا لے کر آئے ہوئے تھے۔جزاھم اللہ احسن الجزاء۔بٹالہ سے گاڑی پھر تبدیل کرنا تھی۔لیکن ریلوے کے حکام نے اہلِ قافلہ کی بوگیوں کو ہی قادیان جانے والی ٹرین کے ساتھ لگانے کا انتظام کر دیا جس کی وجہ سے اہلِ قافلہ رات کے وقت گاڑی تبدیل کرنے اور سامان اتار نے اور نئی گاڑی میں چڑھانے وغیرہ کی پریشانیوں سے بچے رہے جب گاڑی بٹالہ سے قادیان روانہ ہوئی اور وڈالہ گرنتھیاں کے