تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 732
تاریخ احمدیت 732 جلد ۲۰ اپنی ان تمام ذمہ داریوں کو احسن طریق پر ادا کرو جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے تم پر عاید ہیں۔اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر یقین رکھو۔یہودی قوم اسلام کی شدید دشمن ہے مگر میں اسے داد دیتا ہوں کہ اس نے ۲۳ سو سال صبر کیا اور آخر اپنا مقدس مرکز پا لیا۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے افراد کو بھی اس امر کی تو فیق عطا فرمائے کہ وہ دعاؤں سے کبھی غافل نہ ہوں۔اور ہمیشہ اپنے روحانی مرکز میں روحانی اور علمی برکات کیلئے جمع ہوتے رہیں۔ہما را خدا قادر مطلق خدا ہے اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔اور ہم اس سے خیر و برکت کی امید رکھتے ہیں۔ہم محمد رسول اللہ یا اللہ کی امت اور حضرت مسیح موعود کی جماعت ہیں۔ہما را حق یہودیوں سے بہت زیادہ ہے بشرطیکہ ہم استقلال دکھائیں اور اپنے نیک اخلاق سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے والے بنیں۔سو دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو۔اور پھر دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ قادیان کے دروازے تمام احمد یوں کیلئے کھول دے اور جو روکیں پائی جاتی ہیں ان کو دور فرما دے اور ہماری عمروں کو اتنا بڑھا دے کہ ہم اپنی زندگی میں قادیان میں آباد ہو جائیں اور نہ صرف قادیان کے درودیوار کو دیکھیں بلکہ وہاں کے انوار اور برکات سے بھی فائدہ اٹھائیں اور ساری جماعت کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری جماعت دعاؤں میں لگ جائے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لائے۔وہ جو چاہے کر سکتا ہے اس کے راستہ میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔جو روک بنے گا خود اپنا نقصان کرے گا۔سو دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو۔اور پھر دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ہم کو پھر اکٹھا کر دے اور اپنے فضل سے ہماری جھولی بھر دے۔وہ احکم الحاکمین بھی ہے اور ارحم الراحمین بھی ہے۔اس کے رحم کی کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کی طاقت کی کوئی انتہا ہے صرف انسان کی اپنی غلطی ہوتی ہے کہ وہ اس سے مونہہ موڑ لیتا اور اس کے فضل نا امید ہو جاتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک جنگ کے بعد رسول اللہ اللہ نے دیکھا کہ ایک عورت جس کا بچہ کھویا گیا تھا دیوانہ وار ادھر اُدھر پھر رہی ہے وہ ایک ایک بچہ کو اٹھاتی اور سینہ سے لگاتی اور پیار کرتی اور پھر اسے چھوڑ کر اپنے بچے کی تلاش میں دوڑ پڑتی۔وہ اسی حالت میں تھی کہ اسے اپنا بچہ مل گیا۔اور وہ نہایت اطمینان اور آرام کے ساتھ اس کو لے کر بیٹھ گئی۔رسول کریم نے صحابہ کو مخاطب کیا اور فرمایا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر اس عورت سے یہ کہا جائے کہ اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے تو یہ عورت اسے آگ میں ڈالنے کیلئے بیتار ہو جائے گی ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا تم نے ނ