تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 707
تاریخ احمدیت 707 جلد ۲۰ اس پر شوکت خطاب کے پڑھنے کے بعد صاحبزادہ صاحب نے مجلس عالمگیر کی طرف سے پیش کردہ الوداعی ایڈریس کا جواب دیا۔اور مجلس خدام الاحمدیہ سے اپنی طویل وابستگی کا بہت گہرے اور پُر اثر انداز میں تذکرہ فرمایا اور خدام کو پورے اخلاص جذبہ اور جوش سے کام کرنے اور اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرنے کی تلقین کی۔نیز اعلان کیا کہ ایک روز قبل نائب صدر کے عہدہ کیلئے جو انتخاب عمل میں آیا تھا اس کے ضمن میں سید نا حضرت مصلح موعود نے سید میر داؤ د احمد صاحب کو آئندہ دو سال کیلئے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا نائب صد رمقرر فرمایا ہے۔پیغام امام همام لجنہ اماءاللہ کے نام لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کا سالانہ اجتماع ۲۱ ۲۲ ۲۳ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو انعقاد پذیر ہوا۔سید نا حضرت مصلح موعود نے اس موقعہ کیلئے حسب ذیل ولولہ انگیز پیغام عطا فر ما یا جس کو حضرت سیدہ ام امتہ المتین صاحبہ صد ر لجنہ مرکزیہ نے پڑھ کر سنایا :۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم ط بسم الله الرحمن الرحيم ط نحمده و نصلى على رسوله الكريم ط خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ممبرات لجنہ اماءاللہ ! هُوَ النَّاصِرُ السلام عليكم و رحمة الله و بركاته ہمیں قادیان سے آئے ہوئے تیرہ سال ہو چکے ہیں اور اب وہاں جانے کے دن ا قریب معلوم ہوتے ہیں تمہیں بھی چاہیے کہ اپنے اخلاص اور قوت عمل کو بڑھاؤ۔تا کہ جب بھی قادیان میں تمہارا جانا مقدر ہے۔وہ بابرکت ثابت ہو۔قادیان ہمارا اصل مرکز ہے اور وہی برکت پائے گا جو قادیان سے روحانی رنگ میں اتصال رکھے گا۔عیسائیوں کو انیس سو سال گزر چکے ہیں مگر اب تک وہ ہمت کر رہے ہیں اور ساری نیا پر چھائے ہوئے ہیں۔تم کو تو انیس ہزار سال تک دُنیا پر روحانی رنگ میں قبضہ رکھنا چاہیے کیونکہ مسیح محمد ہی اپنی ساری شان میں مسیح ناصری سے بڑھ کر ہے۔خدا تعالیٰ تم کو تو فیق دے اور تمہاری ہمتوں میں برکت دے اور تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاؤ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوکان موسیٰ و عیسى حيين لـمـا وسعهما الا اتباعی - یعنی اگر موسیٰ اور عیسی بھی زندہ ہوتے تو اُن کے لئے میری اتباع کے۔