تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 704 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 704

تاریخ احمدیت 704 جلد ۲۰ اس قسم کی خبروں سے یہ جستجو قدرتی ہے کہ آیا جرمنی میں کوئی منظم اسلامی جماعت کام کر رہی ہے۔مغربی جرمنی میں اسلام کی نمائندگی تین طریقوں سے ہو رہی ہے۔اوّل مسلم سفارتی عملہ جو جرمنی میں اسلامی ممالک کی طرف سے مقرر ہے۔اس گروپ میں جو سب سے بڑا ہے اسلامی ممالک کے طلبہ اور تجارت پیشہ اصحاب بھی شامل ہیں۔اگر چہ ہمبرگ اور ایشین میں مساجد تعمیر کی گئی ہیں تاہم اس طبقہ کے مسلمانوں کو اسلامی تحریک کا نام نہیں دیا جا سکتا۔انکی بنیا دی غرض مذہبی ثقافتی اور قومی روایات کو قائم رکھنا ہے نہ کہ اشاعت اسلام۔گروپ ان مسلم مہاجرین کا ہے جنہوں نے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد جرمنی کو اپنا نیا گھر بنا لیا ہے۔ان کا ثقافتی مرکز باویریا کا دارالحکومت میونخ ہے۔جہاں دونوں با دیرین اور وفاقی حکومتیں مسجد کی تعمیر میں مدد دے رہی ہیں۔مذہب کے علاوہ ان دونوں گروپوں میں ایک اور بھی اشتراک ہے وہ دونوں گویا راہ گذروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔سفارتی عملہ اور طلبہ آتے ہیں اور جاتے ہیں اور مہاجرین آرزور کھتے ہیں کہ ایک دن اپنے وطن مالوف کولوٹ جائیں گے۔احمد یہ تحریک آخری اور تیسرے گروپ یعنی جماعت احمدیہ کا معاملہ ان دونوں سے جدا گا نہ ہے۔یہ جماعت اسی نام کی جماعت کے سامنے جواب دہ ہے جس کا ہیڈ کوارٹر ربوہ پاکستان میں ہے۔جماعت احمد یہ جس کے مشن تمام دنیا پر پھیلے ہوئے ہیں تقریباً ۶۰ سال ہوئے حضرت مرزا غلام احمد صاحب ( قادیانی علیہ السلام ) نے قائم کی تھی یہ فرقہ اسلام سے فراری نہیں بلکہ اسکے برخلاف اس کا مقصد تجدید و احیائے اسلام ہے۔اس اصلاحی تحریک کا کام دو گونہ ہے۔اول یہ سراسر اسلامی فوق الفرق تحریک ہے۔اور دوم اس نے وسیع پیمانہ پر اشاعت دین حق کا کام شروع کر رکھا ہے۔۱۹۳۶ء میں امام جماعت حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جماعت احمدیہ کے پاکستانی نوجوانوں کو اپیل کی کہ وہ اشاعتِ اسلام کیلئے اپنی زندگیاں وقف کر یں۔اس اپیل کی کامیابی کا عظیم ثبوت یہ ہے کہ اس وقت عیسائی اور غیر عیسائی ممالک میں، ۴۴ مشنوں کا قیام ۲۵۴ مساجد کی تعمیر اور ۳۰ درسگاہوں کا قیام عمل میں آچکا ہے۔دس سال ہوئے پہلے احمدی مشنری مکرم عبد الطیف جرمنی میں داخل ہوئے۔وہ آ کر ہمبرگ میں اقامت پذیر ہوئے تھے اور اس وقت سے یہ شہر آہستہ آہستہ جرمنی اور تمام شمالی یورپ کیلئے اسلامی مرکز بنتا چلا گیا۔ڈنمارک ناروے اور سویڈن کے