تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 55 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 55

تاریخ احمدیت 55 جلد ۲۰ یہ تحریک بہت کامیاب رہی اور متعدد مخلصین نے پانچ سو بلکہ ایک ایک ہزار روپیہ بلکہ اس سے بھی زیادہ رقوم دے کر اس مالی جہاد میں شرکت فرمائی۔مکتبہ وقف جدید کا اجراء اگر چہ ۴۳ معلمین وقف جدید کے لئے ۱۹۵۸ء ہی سے مختصر و م کلاسز جاری تھیں مگر وسیع پیمانہ پر تربیتی ٹریننگ کی ابتداء مکتبہ وقف جدید کے اجراء کی صورت میں ۱۹۶۵ء میں ہوئی جیسا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد نے تحریر فرمایا : - دوگو گوابتداء میں شدید ضرورت کے پیش نظر واقفین زندگی کو کسی تعلیم و تربیت کے بغیر ہی جماعتوں میں بھجوا دیا گیا تھا اور ان کے پہلے سے حاصل کرده دینی علم اور خلوص پر ہی انحصار کیا گیا تھا کہ وہ انشاء اللہ حسب استطاعت جماعت کی تربیت عمدگی سے کریں گے لیکن چند سال کے تجربہ نے ثابت کر دیا کہ معلمین کی اپنی تربیت کا ٹھوس انتظام ہونا ضروری ہے چنانچہ اب با قاعدہ دفتر وقف جدید کی عمارت میں ہی ایک مکتبہ وقف جدید کا جاری کر دیا گیا ہے۔جس میں ایک سالہ نصاب مقرر کیا گیا ہے۔نصاب میں اس امر کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ بنیادی دینی علوم کے علاوہ جدید دنیا وی علوم سے بھی معلمین کو ضروری ابتدائی واقفیت ہو جائے۔چنانچہ انہیں حساب، جغرافیہ، تاریخ ، سوشیالوجی، اقتصادیات، سیاسیات، زراعت، کیمسٹری اور فزکس کے علوم سے بھی کچھ نہ کچھ واقفیت کروائی جاتی ہے۔اسی طرح خانہ داری، کپڑے دھونا، استری کرنا وغیرہ بھی سکھایا جاتا ہے اور مخدوش حالات کے پیش نظر شہری دفاع کی تربیت بھی نصاب میں شامل کر دی گئی ہے۔سال ۱۹۶۵ء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۸ معلمین نے کامیابی کی سند حاصل کی 66 اور اب جماعتوں میں نہایت عمدگی سے خدمت دین بجالا رہے ہیں۔“ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی بیش قیمت ہدایات معلمین کے لئے ۲۰ جنوری ۱۹۲۶ء کو وقف جدید کی طرف سے معلمین کی پہلی باقاعدہ کلاس کے اختتام پر ایک الوداعی تقریب منعقد کی گئی جس سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا اور معلمین کو مندرجہ ذیل بیش قیمت ہدایات دیں۔