تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 694
تاریخ احمدیت 694 جلد ۲۰ لوگ پیچھے ہٹانے پڑے۔گراؤنڈ میں اختقامی کارروائی ہوئی انعامات تقسیم کئے گئے نیز جلوس میں شرکت کرنے والی جماعت احمدیہ کی وین کو بھی سرٹیفکیٹ دیا گیا اور جلوس میں جماعت احمدیہ کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا گیا قریباً سبھی حلقوں کی طرف سے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے میں آئے۔حافظ ملک عبد الحفیظ صاحب نے اس کامیاب تبلیغی مہم کی مفصل رپورٹ مرکز میں بھجوائی جو الفضل ۹ رستمبر ۱۹۸۱ ء کے صفحہ نمبر ۸۱ میں دین کی تصویر کے ساتھ اشاعت پذیر ہوئی اس رپورٹ کے آخر میں آپ نے لکھا : - ” خاکسار پیدل چلتے ہوئے اپنے پیارے رب کریم کے حضور دعا گو تھا کہ ہمارے پیارے اللہ ! یہ لوگ تیری مخلوق ہیں لیکن یہ آج تجھے نہیں پہچانتے اور ہلاکت کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اپنی رحمت سے ان کی ہدایت کے سامان پیدا کر اور آسمان سے فرشتوں کی فوجیں اُتار جو ان کے دلوں میں دین حق کی محبت بھر دیں تا تیرا دین ساری دنیا پر غالب آئے اور تیری توحید کا علم اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا پر لہرائے۔“ حافظ ملک عبدالحفیظ صاحب ۱۶ ر ا گست ۱۹۸۱ ء کا واقعہ ہے کہ مبلغ نجی محترم حافظ ملک عبد الحفیظ صاحب ایک جماعتی دورے پر کی المناک شہادت لمباسہ تشریف لے جارہے تھے کہ ہائی وے پر ایک ٹرک سے آپ کی کا ر ٹکرا گئی۔جس کے نتیجہ میں آپ شدید زخمی ہو گئے۔آپ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں آپ نے اپنی جان مولائے حقیقی کے سپرد کی ـ انا لله و إنا اليه راجعون - سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے ارشاد پر مرحوم کا جسد خا کی نجی سے پاکستان لانے کا خصوصی انتظام کیا گیا چنا نچہ جماعت نجی کے ایک نہایت مخلص نمائندہ جناب ظفر اللہ خاں صاحب آپ کی نعش لے کر ۲۱ / اگست کی صبح کو بذریعہ ہوئی جہاز کراچی اور کراچی سے بوقت ۲ بجے دوپہر ربوہ پہنچے اسی روز ساڑھے چھ بجے شام مولا نا عبد المالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے بہشتی مقبرہ کے وسیع احاطہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں مقامی احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔قبر تیار ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے دُعا کرائی۔حافظ صاحب مرحوم حضرت مولوی نظام الدین صاحب ( یکے از رفقاء احمد ) کے پوتے مکرم کریم بخش صاحب آف بہاول پور کے صاحبزادے اور محترم مولانا محمد اسماعیل صاحب دیال گڑھی مربی سلسلہ احمدیہ ( انچارج