تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 672
تاریخ احمدیت 672 جلد ۲۰ تحفہ پیش کی گئیں۔شاہ ٹونگا نے کھڑے ہو کر قرآن کریم مجھ سے وصول کرنے کے بعد ہمارے ایڈریس کے جواب میں شکریہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” میرا ملک صد فی صد عیسائی ہے میں بھی پیدائشی عیسائی ہوں میں نے اس سے پہلے کبھی قرآن کریم دیکھا تک نہیں تھا نہ اسلام سے مجھے تعارف تھا۔آپ نے یہ تقریب پیدا کر کے مجھے اس مذہب سے متعارف کروایا ہے جو میری والدہ کی قوم کا صدیوں سے مذہب چلا آتا ہے۔میری والدہ انڈونیشین نسل سے ہیں آپ کی طرف سے پیش کردہ قرآن کریم اور کتب کا ضرور مطالعہ کروں گا آپ نے ایک عظیم روحانی خزانہ مجھے عطا کیا ہے آپ لوگ بڑے شکریہ کے مستحق ہیں“ دوسرے روز لوکل اخباروں میں اس تقریب کی تصاویر کے علاوہ تمام روداد بھی شائع ہوئی اور ریڈیو پر بھی یہ خبر نشر کی گئی۔اس واقعہ کی رپورٹ جب میں نے سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھیجی تو حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا اور دُعا کے ساتھ یہ ہدایت بھی فرمائی کہ ” بادشاہ سے لے کر ادنیٰ سے ادنی انسان تک دن رات اسلام کا پیغام پہنچا ئیں چنانچہ اگر چہ پہلے یہی حتی الوسع ہر موقع پر ادنیٰ و اعلیٰ سبکو تبلیغ کی جاتی تھی لیکن حضور کے اس تازہ ارشاد کے بعد ایک خاص تبلیغی مہم جاری کی گئی اور تقسیم کے لئے اپنا لٹریچر ٹیکسیوں اور بسوں میں رکھوایا گیا۔نیز مارکیٹ میں تین چار احمدی سٹالوں پر بھی لٹریچر رکھوا دیا۔حتی کہ بیت اور مشن ہاؤس کے فلش پٹ اور کمپاؤنڈ کی صفائی کے لیے آنے والے مزدوروں کی بھی چائے سے تواضع کر کے انہیں تبلیغ کی جاتی رہی اور اسلام کے متعلق لٹریچر پیش کیا جاتا رہا یہاں تک کہ بعد میں وہ غریب محین باشندے ہما را محین زبان میں شائع شدہ لٹریچر ہم سے خود طلب کر نے لگے۔جزیرہ واٹو الیوو اور مولانا غلام احمد صاحب بد وملہی کونجی میں قریباً دو سال تک احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی آپ نے زیادہ وقت۔وٹی لیوو میں تبلیغی جہاد جزیرہ والوالیوں میں گزارا اور جماعتی تعلیم و تربیت کے علاوہ مختلف شہروں اور قصبوں میں سوال و جواب کی محفلیں منعقد کر کے تبلیغ کی راہ ہموار کی ان دنوں اس جزیرہ میں مخالفت زوروں پر تھی مخالفین احمدیت نے وٹی لیو و سے ایک دوسرے جزیرہ کا رخ کیا مگر وہاں بھی انہیں شکست ہوئی اور