تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 671
تاریخ احمدیت 671 جلد ۲۰ دی گئی۔مگر آگ کے نقصان کا موقعہ پر جائزہ لیتے ہوئے اس وقت کے مبلغ انچارج نے اس جلے ہوئے کمرے پر کھڑے ہو کر بڑے دکھ بھرے انداز میں آہ بھر کر جو یہ کہا کہ جس نے خدا تعالیٰ کے دین اسلام کی اشاعت کا یہ مرکز جلانے کی کوشش کی ہے خدا تعالے اس کے اپنے گھر کو راکھ کر دے۔تو خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے چند روز بعد اچانک با میں جماعت کے مخالفین کے سرغنہ ابو بکر کو یا کے گھر کو آگ لگ گئی اور با وجود بجھانے کی ہر کوشش کے وہ رہائشی مکان سارے کا سارا جل کر راکھ ہو گیا۔فاعتبروا یاا ولی الابصار جناب مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کا جزائر ٹونگا کے بادشاہ کو تبلیغ اسلام بیان ہے کہ نومبر ۱۹۷۱ء میں مجھے ” اخبارات کے ذریعہ علم ہوا کہ جزائر ٹونگا اور قرآن کریم کی پیشکش کے بادشاہ جو بھی میں قائم شدہ جنوبی ,, بحراوقیانوس کے جزائر کی واحد یونیورسٹی کے اعزازی چانسلر بھی ہیں عنقریب بھی آ رہے ہیں۔۔۔۔۔جماعت کے ایک مخیر دوست برادرم محمد شمس الدین صاحب۔۔۔۔۔نے محض خیریت دریافت کرنے کے لیئے مجھے مغرب کے بعد فون کیا میں نے ضمنی طور پر ان سے ذکر کیا کہ جزائر ٹونگا کے بادشاہ اپنے شاہی قافلہ کے ساتھ نجی کے دارالحکومت میں اپنے چچا کے ہاں مقیم ہیں تا ہم اُن سے تبلیغی ملاقات کے لیے ہماری کوشش کا رگر نہ ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ شاہ ٹونگا کے چا سر ایڈورڈ ڈا کمبا ؤ نائب وزیر اعظم نجی تو میرے سکول فیلو اور کرکٹ فیلو بھی رہے ہیں اور تجویز کیا کہ کل صبح ہی ان سے دفتر میں ملیں گے۔چنانچہ اگلے روز ہم دونوں اُن سے ملے۔وہ بڑی خوش خلقی سے پیش آئے اور ہماری خواہش کے مطابق اسی وقت فون پر ہماری طرف سے شاہ ٹونگا سے ملاقات کی درخواست کر دی جو شاہ نے منظور کر لی چنانچہ اسی وقت سر ایڈورڈ نے ہمیں بتایا کہ آج ہی شام کے پانچ بجے ہر میجسٹی نے ہمیں ملاقات کے لیئے آدھ گھنٹہ دیا ہے اور ہماری خواہش کے مطابق دوسرے سب شاہی مہمان موجود ہوں گے۔چنانچہ اسی روز تین افراد پر مشتمل جماعت احمدیہ نجی کے تبلیغی وفد کی پریس فوٹوگرافرز اور اخباروں کے نمائندوں کی موجودگی میں شاہ ٹونگا سے ملاقات ہو گئی خاکسار نے انہیں جماعت کی طرف سے ایڈریس پیش کیا جس میں انہیں خوشآمدید کہنے کے علاوہ اسلام کی تعلیم سے آگاہ کیا گیا اور آخر میں قرآن کریم انگریزی اور دیگر اسلامی کتابیں بطور