تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 670
تاریخ احمدیت 670 جلد ۲۰ عمارت تعمیر کی جا سکتی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کا عظیم الشان نشاں دکھلایا اور مسجد اور مشنری کواٹرز کی شاندار عمارت تعمیر ہو گئی جسکا نام بیت اقضی رکھا گیا اور اس کا افتتاح یکم جنوری ۱۹۷۲ء کو سالانہ تبلیغی کا نفرنس کے موقع پر مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری فاضل انچارج مشن جزائر فجی نے فرمایا اس افتتاحی تقریب کے لیئے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے حسب ذیل برقیہ پیغام ارسال فرمایا۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔میری طرف سے آپ سبکو بیت اقصٰی ناندی کا افتتاح کرنا بہت بہت مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ اس بیت کو اس علاقہ میں اسلام کی ترقی اور اشاعت کا کامیاب مرکز بنائے۔خلافت سے وابستگی اور نظام جماعت کی پابندی اپنا شعار بناؤ۔۱۳۵ تائید الہی کے ایک قہری نشان کا ظہور مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری وو فرماتے ہیں :۔" جماعت احمدیہ نے نجی کے مشہور شہر با (BA) میں احمد یہ مشن کی برانچ کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ایک مناسب حال مکان بھی خرید لیا تو اس شہر میں ہماری شدید مخالفت شروع ہو گئی۔مخالفین کوشش کرنے لگے کہ جیسے بھی ہو تبلیغ اسلام کا یہ مشن با “ شہر میں کا میاب نہ ہونے پائے اور ہمارے قدم وہاں نہ جمیں۔اس وقت وہاں ہمارے مخالفین کا سرغنہ وہاں کا ایک صاحب اقتدار شخص ابو بکر کو یا نامی تھا۔چنانچہ اس نے اور دیگر مخالفین نے شہر میں یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ احمدیوں کے با مشن کی عمارت کو جلا دیں گے۔چنانچہ جس قدر ممکن ہو سکا ہم نے حفاظتی انتظامات کر لیئے اس عمارت کے سامنے پولیس اسٹیشن تھا انہیں بھی توجہ دلائی گئی پولیس نے ہمیں مشن ہاؤس کی حفاظت کا یقین بھی دلایا پھر بھی ایک رات کسی نہ کسی طرح مخالفین کو نقصان پہنچانے کا موقعہ مل گیا اور ان میں سے کسی نے ہمارے مشن ہاؤس کے ایکھہ پر تیل ڈال کر آگ لگا دی اور یہ یقین کر کے کہ اب آگ ہر طرف پھیل جائے گی اور مشن ہاؤس کو خاک سیاہ کر دے گی۔آگ لگاتے ہی آگ لگانے والا فوراً بھاگ گیا۔لیکن خدا تعالے کا کرنا ایسا ہو کہ افراد جماعت کو پتہ لگنے سے پہلے ہی وہ آگ بغیر کوئی خاص نقصان کئے خود ہی بجھ گئی یا بجھا دی گئی۔مخالفین نے عمارت کی اس طرف جہاں عمارت کا اکثر حصہ لکڑی کا تھا آگ لگائی تھی جس سے چند لکڑی کے تختے جل گئے مگر وہ آگ آگے بڑھنے سے قبل ہی بجھ گئی۔چنانچہ اسی روز اس کی مرمت کروا