تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 663 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 663

تاریخ احمدیت ข 663 جلد ۲۰ ۳۰ رمئی ۱۹۶۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا حضرت خلیفہ مسح الثالث و جماعت نبی کے نام ایک ٹیپ شدہ روح پرور پیغام مكرم عبد القدوس صاحب آف نبی آئی لینڈ کے کا روح پرور پیغام ذریعہ پہنچا جس میں حضور نے نہایت لطیف اور وجد آفریں پیرا یہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی منصب کی وضاحت فرمائی اور احمدیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف پرزور طریق سے توجہ دلائی۔رسالہ دی مسلم ہار پنجر کا اجراء مولوی نورالحق صاحب انور کی کوششوں سے جون ۱۹۶۷ء سے ایک سم ماہی رسالہ دی مسلم با رینجر ( منادی اسلام ) جاری ہوا جو انگریزی، نجیئن اور ہندی زبانوں پر مشتمل تھا رسالہ کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔افسوس یہ مفید رسالہ چند سال بعد بند ہو گیا۔مولوی نور الحق انور صاحب کی آمد محترم شیخ صاحب نبی کی سر زمین میں پوری دلجمعی سے اعلاء کلمۃ اللہ کے فریضہ میں مصروف تھے کہ ۲۶ فروری ۱۹۶۷ء کو مرکز سے مولوی نور الحق صاحب انور سابق مجاہد مشرقی افریقہ وامریکہ بھی نجی تشریف لے آئے۔۶ / مارچ کو نبی ریڈیو سے آپ کا اردو اور انگریزی زبان میں انٹرویو نشر ہوا اور آپ کے استقبالیہ جلسوں میں شامل غیر احمدی معززین شدت سے محسوس کرنے لگے کہ آج دنیا میں اسلام کی خاطر صحیح قربانی دینے والی جماعت صرف جماعت احمد یہ ہے۔6 ۲۸ بیت محمود کی تعمیر مارو کی اکثریت احمدی نفوس پر مشتمل تھی حضرت چو ہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب نے اپنے قیام نجی کے دوران ۷/نومبر ۱۹۶۵ء کو یہاں بیت محمود کی بنیا درکھی اور شیخ عبد الواحد صاحب اور مولوی نور الحق صاحب انور کی نگرانی میں دو سال تک صودا اور ناندی کے مخلصین نے مزدوروں کی طرح کام کر کے خدا تعالیٰ کے اس گھر کو مکمل کیا اس تاریخی بیت الذکر کا افتتاح یکم جنوری ۱۹۶۸ء کو ہوا۔بیت ناندی کی بنیاد اور تکمیل ۱۴ جنوری ۱۹۶۸ء کو مولوی نورالحق صاحب انور نے بیت ناندی کا سنگ بنیا د رکھا یہ بیت آخر ۱۹۷۱ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔اور اس کا افتتاح یکم جنوری ۱۹۷۲ء کو جلسہ سالانہ کی تقریب کے ساتھ عمل میں آیا۔۲۹