تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 51
تاریخ احمدیت 51 ہیں۔ہم کو مولوی صاحب کا بہت فائدہ ہے۔“ جلد ۲۰ کیوں نہ ہو یقیناً جماعت کو ایسے مخلص معلمین کا بہت فائدہ ہے جو دن رات نہایت جانفشانی کے ساتھ دینی تعلیم اور تربیت میں مصروف ہیں۔اسی فائدہ کا اپنے الفاظ میں ذکر کرتے ہوئے ایک اور جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب تحریر فرماتے ہیں :- دد معلم نے روزانہ اپنی دلکش تقاریر سے جماعت کے قلوب میں سلسلہ کے متعلق اخلاص پیدا کیا۔اور احمدیت کی تعلیم پر مختلف پیرا یہ میں ٹیچر کر کے ایک روح پیدا کی ہے۔علاوہ ازیں بچوں کے روزانہ اجلاس کر کے ان کی خاطر خواہ تربیت کی ہے۔جماعت کو ان کی آمد سے بڑا فائدہ پہنچا ہے۔ایک نوجوان نے بیعت کی جس کا سہرا معلم صاحب کی نورانی 66 پیشانی پر ہے۔جگہ کی قلت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ تفصیل کے ساتھ ان تمام پاک تبدیلیوں کا ذکر کیا جائے جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کے زیر انتظام رونما ہورہی ہیں۔آخر پر ایک مرکز سے متعلق ایک ضلع کے امیر صاحب کے تاثر کا ذکر کر کے اس ذکر کو ختم کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- وقف جدید کے مرکز کے قیام سے اصلاح و ارشاد کا سالہا سال سے رکا ہوا کام جاری ہو گیا اور جماعت کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔چندوں میں بھی خدا کے فضل سے نہایت غیر معمولی اضافہ ہوا یہاں تک کہ گزشتہ پانچ صد روپیہ سالانہ کے مقابل پر اب ہمارا بجٹ بڑھ کر ساڑھے چار ہزار روپیہ سالانہ تک پہنچ گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔یقیناً یہ تحریک القائے الہی کے مطابق جاری کی گئی ہے اور تربیت کی پیاسی جماعتوں کے لئے آب بقا کا کام دے رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے برکت پر برکت دے اور اس کے روحانی فیوض سے پاکستان کا قریہ قریہ سیراب ہو جائے۔مگر احباب جماعت کو اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ابھی پانی بہت کم اور پیاسوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس قسم کے روحانی چشموں کا جاری کرنا جوئے شیر کے کھینچ لانے کے مترادف ہے اور کوہ کن کے سے عزم اور جانفشانی اور محنت کو چاہتا ہے۔