تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 660
تاریخ احمدیت 660 جلد ۲۰ احمدی وہاں جوش و خروش سے پہنچے خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کی صداقت پر حقیقۃ الوحی سے دلائل پیش کئے پھر وفات مسیح پر مناظرہ ہوا خدا تعالیٰ کے فضل سے لیکچر اور مناظرہ کا بہت ہی اچھا اثر ہوا اور غیر مبائعین اور غیر احمدی مناظر مبہوت ہو گئے۔کوئی بات نہ بن آتی تھی۔ناندی اور لوٹو کا کے احمدی بھائی رات 11 بجے بڑی خوشی اور کامیابی سے لوٹے۔با سے لوٹتے ہوئے بھائی محمد شمس الدین صاحب پر ایک وجد اور سرشاری کی کیفیت تھی حاضرین سے کہتے تھے کہ دین کی خدمت اور اسکی راہ میں جہاد بھی شراب کی سی مستی کی کیفیت رکھتا ہے آج ایک کیف اور وجد آ گیا ہے۔( فـالـحـمـد لِلہ علیٰ ذالك )۔دوسرا انتظام اللہ تعالے نے بھائی محمد شمس الدین صاحب کے دل میں یہ ڈالا کہ دلائل سے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات و ملفوظات کی برکت سے معمور اور بھر پور ہیں لیکن غیر ہمارے خلاف اخبار اور اشتہارات کے ذریعہ بے بنیاد پرو پیگنڈہ کرتا ہے ہم بھی ایک اردو و انگریزی میں ماہوار اخبار نکالیں خوب جواب دیں اور تبلیغ کا حق ادا کر دیں۔ہم قرض لے کر اقساط پر ایک سیکنڈ ہینڈ گیٹیٹر مشین لیکر اپنا پر لیس چلا دیں۔اگر چہ سرمایہ نہ تھا لیکن عشق کی دیوانگی میں یہ قدم اٹھا لیا گیا اور مبائعین اور ہمدردوں نے قربانی کی دو دو چار چار پونڈ کر کے چندہ جمع کر کے آرم سٹرونگ سپرنگ ہال کمپنی سے گیسٹر مشین اس کا سٹینڈ اور ایک ٹائپ رائٹر خرید کرمئی ۱۹۶۱ ء میں نماز کی کتاب عربی اردو انگریزی ترجمہ کے ساتھ چھاپ کر تبلیغ و تربیت کی ابتداء اور بسم اللہ کر دی اور جون ۱۹۶۱ ء میں ماہوار الاسلام کا پہلا پرچہ اردو اور انگریزی میں گورنمنٹ سے اجازت لیکر نکال دیا جس سے ایک انقلاب شروع ہو گیا۔اخبار تنظیم ( اہلحدیث ) اور اخبار’ آذان‘‘ اہلسنت دنگ ہو گئے۔انکی ہر غلط پیش کی گئی بات کا جواب ملنے لگا اور غلطیوں کی وضاحت ہونے لگی۔اہلحدیث کے اخبار نے لکھا مسلمانو ! بیدار ہو یہ کیا انقلاب آ رہا ہے؟ چنانچہ ہمارے اخبار الاسلام کے مقابلہ پر دونوں اخبار بند ہو گئے اور مسلمانوں نے یہ کہہ کر کہ تمہیں اخبار نہیں نکالنا آ تا اسمیں کوئی قیمتی اور وزنی بات نہیں ہوتی۔انہوں نے دلچسپی لینی چھوڑ دی۔دوسرا ان اخبارں کے لیے قربانی کرنے والے نہ تھے اور خریداروں کو دلچسپی نہ تھی۔لیکن ہمارے اخبار کے لیے احمد یہ جماعت کے افراد قربانی کرتے اور خریداروں کیلئے دلچسپی کا سامان اور قیمتی مضامین لکھتے اخبار میں اسلام کی ترقی نظر آتی تھی۔۲۳