تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 658 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 658

تاریخ احمدیت 658 جلد ۲۰ فصل سوم فنجی کی پہلی اور مرکزی بیت فضل عمر کی تعمیر جب اللہ تعالے نے ناندی اور لوٹو کا جیسے اہم شہروں میں مخلص جماعتیں قائم فرما دیں تو شیخ عبد الواحد صاحب نے نبی کے دارالحکومت سو دا شہر کا رُخ کیا۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نوازا اور جون ۱۹۶۱ء میں ایک ہی دن ۱۲ افراد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں ایک مخلص، جوشیلی اور فعال جماعت قائم ہو گئی جس کے بعد علاقہ ساما بولد میں ایک مکان کرایہ پر لے کر با قاعدہ مرکز قائم کر دیا گیا یہ مرکز ۸۲ کنگز روڈ میں کھولا گیا ) اسی مرکز میں دسمبر ۱۹۶۲ء میں جزائر فجی کے احمدیوں کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا جس میں ۱۲۵ افراد شامل ہوئے )۔اگلی عید الفطر کے موقع پر جماعت بڑھ جانے کی وجہ سے یہمکان اتنا نا کافی ثابت ہوا۔نہ جماعت کے احباب وہاں سما سکے اور نہ ان کی موٹریں وغیرہ کھڑی کرنے کیلئے کوئی جگہ تھی۔عید الفطر کے خطبہ میں شیخ عبد الواحد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام وسع مكانك كا حوالہ دیگر تحریک کی کہ صودا ( SUVA) شہر میں جماعتی مرکز کے لیئے کوئی وسیع مکان تلاش کر کے خریدنے کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ احباب جماعت نے مناسب جگہ کی تلاش شروع کر دی۔اس دوران معلوم ہوا کہ ساتھ والا پلاٹ مع مکان قابل فروخت ہے جس کی بیوہ مالکہ تین ہزار پونڈ طلب کرتی ہے جماعت کی طرف سے دو ہزار پونڈ کی پیش کش کی گئی مگر وہ تین ہزار پونڈ سے کم فروخت کرنے پر راضی نہ ہوئی۔چونکہ وہ قطعہ زمین جماعت کے مرکز اور مسجد کے لیئے نہایت موزوں اور با موقعہ تھا اس لیئے جماعت نے اس عورت کے بعض رشتہ داروں کے ذریعہ اسے سمجھایا کہ اس کی زمین کسی تجارتی غرض کے لیئے نہیں بلکہ محض خانہ خدا کی تعمیر اور تبلیغ اسلام کے مرکز کے لیئے لی جا رہی ہے چنانچہ آخر کار دو ہزار پونڈ قیمت پر اس قطعہ زمین اور مکان کو فروخت کرنے پر رضا مند ہو گئی جس کے بعد وکیل کے ذریعہ تحریری معاہدہ کے علاوہ اسے بیعانہ بھی ادا کر دیا گیا یہ وسط ۱۹۶۲ ء کی بات ہے۔اس کے بعد جب اس عورت کے رشتہ داروں اور بعض لوکل تنظیموں کے سر برا ہوں اور کارندوں کو جو جماعت