تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 654
تاریخ احمدیت 654 جلد ۲۰ الحاج محمد رمضان صاحب ۱۴ / اگست کو اپنی صاحبزادی اور پوتے کے ساتھ ربوہ میں تشریف لائے اور تحقیق کی غرض سے ایک ہفتہ تک مرکز احمدیت میں قیام فرما ر ہے۔آپ نے حضرت مصلح موعود کی ملاقات بھی کی اور جلد ہی خلیفہ موعود کی بیعت کا شرف حاصل کر لیا اسی طرح آپ کی بیگم صاحبہ اور محمد عقیب خاں صاحب بھی انوار خلافت سے مالا مال ہوئے۔وکالت تبشیر ربوہ کی طرف سے ۲۹ /اکتوبر ۱۹۵۹ء کو چوہدری عبد الحکیم صاحب کے نام اطلاع دی گئی کہ الحاج محمد رمضان صاحب نے بیعت خلافت کر لی ہے۔محترم حاجی محمد رمضان صاحب نے اپنے پوتے کو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کرا دیا اور خود ۱۹۶۰ ء میں واپس وطن تشریف لائے اور چوہدری عبد الحکیم صا حب کے ساتھ مل کر زور شور سے حق کی منادی شروع کر دی لوگوں کے سامنے مرکز احمدیت ربوہ اور خلافت کی برکات سے متعلق اپنے ذاتی مشاہدات بیان فرمائے اور ہم خیال دوستوں سے بیعت خلافت کرانے کا آغاز کیا چنانچہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۰ ء تک ۱۵ بیعتیں مرکز کو بھجوائیں ۱۹ ر ا پریل ۱۹۹۰ ء تک ۳۰ افراد پر مشتمل ایک جماعت تیار ہو گئی اس کے ساتھ ہی آپ نے مولانا شیخ عبدالواحد صاحب کے لیئے جولائی ۱۹۶۰ ء میں پرمٹ ربوہ پہنچا دیا جس پر شیخ صاحب موصوف ۶ را کتوبر ۱۹۶۰ ء کو مرکز احمدیت ربوہ سے۔عازم منجی ہوئے اور ۱۲ ؎ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو بوقت دس بجے شب ناندی ایئر پورٹ پر قدم رکھا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندے حضرت مصلح موعود کی دلی خواہش کی تکمیل کا غیبی سامان فرمایا اور اس کے فضل خاص سے احمد پہ مشن نجی کی بنیا د رکھی گئی۔نجی کے بعض ابتدائی احمدیوں نبی کے اولین احمدی چوہدری عبد الحکیم صاحب الحاج محمد رمضان خانصاحب ( جو نجی مشن کے کے ایمان افروز کوائف قیام کا موجب بنے ) کا ذکر اوپر آ چکا ہے ان کے علاوہ بعض دیگر ابتدائی احمدیوں کا تفصیلی تذکرہ جناب شیخ عبدالواحد صاحب کے مکتوب مورخہ ۲۲؍ فروری ۱۹۶۸ء میں ملتا ہے فرماتے ہیں۔حاجی محمد رمضان خانصاحب کے زیر اثر حاجی صاحب کی والدہ کا خاندان اور حاجی صاحب کے والد کا خاندان انکے زیر تبلیغ تھا چنانچہ میرے پرمٹ کے ساتھ ہی حاجی صاحب نے بھائی محمد جان خان کی بیعت اور ان کے بھائیوں کی مردوں عورتوں کی بیعت ربوہ بھیج