تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 653
تاریخ احمدیت فصل دوم 653 جلد ۲۰ مستقل احمد یہ مشن کی بنیاد سیدنا حضرت مصلح موعود کی دیرینہ خواہش تھی کہ تبھی میں جماعت مبائعین کی طرف سے احمد یہ مشن کھولا جائے - - 17 چنانچہ حضور نے ۱۹۵۶ء میں شیخ عبدالواحد صاحب سابق مبلغ چین و ایران کو ارشا د فر مایا کہ جزائر فجی کے لئے تیاری کریں اور کچھ ہندی پڑھ لیں۔ان جزائر میں پہلی بار احمدیت کا نام ۱۹۲۵ء کے قریب پہنچا تھا جبکہ (حضرت چوہدری غلام احمد خان صاحب آف کر یام کے نسبتی بھائی ) چوہدری کا کے خانصاحب مرحوم کے بڑے صاحبزادے چوہدری عبدالحکیم صاحب - جنرل مرچنٹ کا روبار کے سلسلہ میں جالندھر اور ہوشیار پور کے دوستوں کے ساتھ نجی تشریف لے گئے اور ناندی میں قیام کیا۔ان کی خط و کتابت حضرت مصلح موعود سے ہوتی رہی اور اُن کا چندہ پہلے قادیان اور پھر ربوہ میں براہ راست پہنچتا رہا اور’ الفضل اور دوسرا مختصر لٹریچر انہیں ملتا رہا جس سے نہایت محدود حلقہ میں سلسلسہ احمدیہ کے صحیح حالات پہنچا سکے اور گونجی میں کوئی جماعت اُن کے ذریعہ قائم نہ ہوسکی۔تا ہم وہ اخلاص سے جماعتی لٹریچر اور اخبار الفضل دوسروں کو دیتے رہتے تھے۔اس ماحول میں نجی کے لئے شیخ عبدالواحد صاحب کو انٹری پرمٹ ملنا قریباً ناممکن تھا۔کیونکہ قانونی طور پر کوئی رجسٹرڈ جماعت مبائعین ایسی نہ تھی جو ضمانت دے سکے۔ان سرا سر مخالف حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ موعود کی قلبی آرزو کو پورا کرنے کا یہ سامان فرما یا کہ محمد رمضان خاں صاحب رئیس ناند و جو انجمن اشاعت اسلام کے پُر جوش اور سرکردہ ممبر تھے اور ان دنوں نجی کی انجمن کے پریذیڈیٹ تھے حج بیت اللہ شریف اور زیارتِ مدینہ منورہ سے مشرف ہو کر ۱۵/ جولائی ۱۹۵۹ء کو مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے قادیان گئے ان کے ہمراہ اُن کی بیگم صاحبہ اور پوتا عقیب خاں بھی تھا ۱۸ / جولائی کو دیار حبیب کی برکات سے فیضیاب ہونے کے بعد لاہور پہنچے۔اور اپنے داماد انوار رسول صاحب ( سپرنٹنڈنٹ سیکرٹریٹ ) کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔محترم انوار رسول صاحب کے بیان کے مطابق اُن کے رشتہ کی منظوری حضرت مصلح موعود نے دی اور فرمایا کہ شاید اس طرح اُس جگہ ( یعنی جزائر فجی میں ) حقیقی احمدیت پھیل جائے ( مکتوب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۵۴ء نمبر ۲۵۷۰)۔عظ