تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 651
تاریخ احمدیت 651 جلد ۲۰ ممتاز عالم مرزا مظفر بیگ صاحب ساطع کو درجنوں تاریں اور بہت سے خطوط پہنچے کہ نبی آ کر آریہ سماج اور عیسائیت کا مقابلہ کر کے مسلمانوں کی مدد کریں۔جس پر جنا۔صاحب ۱۷اپریل ۱۹۳۳ء کی شب کو بذریعہ فرنٹیر میل لاہور سے روانہ ہوئے۔مسلم لیگ نبی نے تمام اخراجات سفر بی اینڈ اور کمپنی بمبئی کے پاس جمع کروا دیئے تھے اور کمپنی نے اطلاع دے دی تھی کہ نبی کے لیئے جہاز کولمبو سے ملے گا۔۱۵ / اپریل کو آپ کولمبو سے جہاز پر بیٹھے اور ۱۲ رمئی ۱۹۳۳ء کو آپ بھی پہنچ گئے۔جناب ساطع صاحب کو نجی میں قدم رکھے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ نبی مسلم لیگ نے احمدیت کی آڑ لے کر آپ کو جامع مسجد میں نما ز جمعہ پڑھنے سے روک دیا۔آپ نے سا ہو خانصاحب کے ہاں نماز پڑھنی شروع کر دی جہاں جا مع مسجد کی نسبت کئی گنا حاضری ہوتی تھی۔مرزا صاحب پہلے آٹھ ماہ صوا میں رہے پھر ۲۵ / دسمبر ۱۹۳۳ء کو ناندی آگئے۔اس دوران ۱/۸ کتو بر ۱۹۳۳ء کو آپ کا پادری سموئیل شرن سے کامیاب مناظرہ ہوا۔پادری صاحب نے بے اختیار ساطع صاحب کی نسبت کہا کہ واقعی آپ شیر ہیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ میں تو اسلام کا ایک ادنی سپاہی ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بڑا فوٹو دکھاتے ہوئے کہا یہ ہے شیر جسکو خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے واسطے بھیجا ہے محمدؐ کے شیروں کے آگے مسیح کی بھیڑیں نہیں ٹھہر سکتیں !! یہ سنتے ہی مسلمانوں نے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا۔اس مناظرے نے احمدیت کے بعض شیدائی پیدا کر دیئے چنانچہ ۲۶ / جنوری ۱۹۳۴ ء کو جب کئی مفسدین نے آپ کی قیام گاہ پر حملہ کیا تو انہی لوگوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اسوقت جناب ساطع صاحب نے تحریک کی کہ اب تک آپ سب لوگ اپنے آپ کو فخر سے احمدی کہلانے اور احمدیت کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن جب تک با قاعدہ بیعت کر کے آپ حضرات جماعت احمدیہ میں شریک نہ ہو جائیں آپ کی حیثیت صرف معاونین کی ہے احمدی کی نہیں۔انہوں نے یہ الفاظ اس جذ بے سے کہے کہ اس مجلس میں موجود چھ حضرات نے انجمن اشاعت اسلام کے امیر مولا نا محمد علی صاحب کے نام بیعت نامہ لکھ کر دستخط کر دیئے۔جن میں ضلع ناندی کے محمد رمضان خان صاحب اور ان کے بھائی عبد اللطیف خاں صاحب اور محمد حکیم خاں صاحب ( پسر محمد رمضان خاں صاحب ) بھی تھے۔" مرزا مظفر بیگ صاحب ساطع نے لکھا :۔ضلع ناندی کے محمد اسحق خانصاحب و محمد رمضان خانصاحب نے استقلال اور آہنی