تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 644
تاریخ احمدیت 644 جلد ۲۰ ہماری اجتماعی زندگی متاثر نہیں ہوتی۔اسی طرح مخصوص جہت میں مخصوص انداز سے عبادت کر لینا بھی بے سود ہے۔اگر وہ ہماری ہئیت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔تاریخ و عقل دونوں کا فیصلہ یہی ہے۔پھر غور کیجئے کہ اس وقت احمدی جماعت کے علاوہ مسلمانوں کی وہ کونسی دوسری جماعت ایسی ہے جو زندگی کے صرف عملی پہلو کو اسلام سمجھتی ہو۔اور محض عقائد کو مذہب کی بنیاد قرار نہ دیتی ہو۔میں نے جب سے آنکھ کھولی مسلمانوں کو باہم دست وگریبان ہی دیکھا۔سنی۔شیعی۔اہلِ قرآن۔اہل حدیث دیوبندی۔غیر دیو بندی۔وہابی۔بدعتی اور خدا جانے کتنے ٹکڑے مسلمانوں کے ہو گئے۔جن میں سے ہر ایک دوسرے کو کافر کہتا تھا۔اور کوئی ایک شخص ایسا نہ تھا۔جس کے مسلمان ہونے پر سب کو اتفاق ہو۔ایک طرف خود مسلمانوں کے اندر اختلاف و تضاد کا یہ عالم تھا۔اور دوسری طرف آریائی و عیسوی جماعتوں کا حملہ اسلامی لٹریچر اور ا کا بر اسلام پر کہ اسی زمانہ میں میرزا غلام احمد صاحب سامنے آئے اور انہوں نے تمام اختلافات سے بلند ہو کر دنیا کے سامنے اسلام کا وہ صحیح مفہوم پیش کیا جسے لوگوں نے بھلا دیا تھا یا غلط سمجھا تھا یہاں نہ ابو بکر و علی کا جھگڑا تھا نہ رفع یدین و آمین بالجہر کا اختلاف یہاں نہ عمل بالقرآن کی بحث تھی نہ استناد بالحدیث کی۔اور صرف ایک نظریہ سامنے تھا اور وہ یہ کہ اسلام نام ہے۔صرف اسوۂ رسول کی پابندی کا۔اور اس عملی زندگی کا۔اُس ایثار و قربانی کا۔اس محبت و رافت کا۔اس اخوت و ہمدردی کا اور اس حرکت و عمل کا جو رسول اللہ کے کردار کی تنہا خصوصیت اور اسلام کی تنہا اساس و بنیا دتھی۔میرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی مدافعت کی اور اس وقت کی۔جب کوئی بڑے سے بڑا عالم دین بھی دشمنوں کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔انہوں نے سوتے ہوئے مسلمانوں کو جگایا اٹھایا اور چلایا یہاں تک کہ وہ چل پڑے۔اور ایسا چل پڑے کہ آج روئے زمین کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان کے نشانات قدم سے خالی ہو۔اور جہاں وہ اسلام کی صحیح تعلیم نہ پیش کر رہے ہوں۔پھر ہو سکتا ہے کہ آپ ان حالات سے متاثر نہ ہوں۔لیکن میں تو یہ کہنے اور سمجھنے پر مجبور ہوں۔کہ یقیناً بہت بڑا انسان تھا وہ جس نے ایسے سخت وقت میں اسلام کی جانبازانہ مدافعت کی اور قرونِ اولیٰ کی اس تعلیم کو زندہ کیا۔جس کو دنیا بالکل فراموش کر چکی تھی۔رہا یہ امر کہ مرزا صاحب نے خود اپنے آپ کو کیا ظاہر کیا۔سو یہ چنداں قابل لحاظ