تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 637
637 جلد ۲۰ تاریخ احمدیت سوالات مجھ سے کئے جا رہے ہیں۔بعض حضرات اس جماعت کے معتقدات کے بارے میں استفسار فرماتے ہیں۔بعض براہ راست بانی احمدیت کے دعوائے مہدویت و نبوت کے متعلق سوال کرتے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کے اخلاق کو داغدار ظاہر کر کے مجھے ان کی طرف سے متنفر کرنا چاہتے ہیں اور بعض تو صاف صاف مجھ سے یہی پوچھ بیٹھتے ہیں” کیا میں احمدی ہو گیا ہوں یہ سب سنتا ہوں۔اور خاموش ہو جاتا ہوں۔کیونکہ وہ یہ تمام سوالات اس لئے کرتے ہیں کہ وہ مجھے بھی اپنا ہی جیسا مسلمان سمجھتے ہیں اور اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ :۔ہم کعبه و هم بتکده سنگ رو ما بود وفتیم و صنم برسر مہراب پر تتبر مذہب و اخلاق در اصل ایک ہی چیز ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ احمدی جماعت کی بنیا داسی احساس پر قائم ہے اور اسی لئے وہ مذہبی عصبیت سے کوسوں دور رہیں وہ تمام اخلاقی مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور جس حد تک خدمت خلق کا تعلق ہے، رنگ ونسل اور مسلک و ملت کا امتیاز ان کے یہاں کوئی چیز نہیں وہ ہمیشہ سادہ غذا استعمال کرتے سادے کپڑے پہنتے ہیں سگریٹ وسے نوشی وغیرہ کی مزموم عادتوں سے مبرا ہیں، نہ تھیٹر وسنیما سے انہیں کوئی واسطہ نہ کسی اور لہو ولعب سے دلچسپی۔انہوں نے اپنی زندگی کی ایک شاہرہ قائم کر لی ہے اور اسی پر نہایت متانت وسلامت روی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں یہی حال ان کی عورتوں کا ہے اور اسی فضا میں ان کے بچے پرورش پا رہے ہیں مجھے مطلق اس سے بحث نہیں کہ ان کے معتقدات کیا ہیں۔میں تو صرف انسان کی حیثیت سے ان کا مطالعہ کرتا ہوں اور ایک معیاری انسان کی حیثیت سے انکا احترام میرے دل میں ہے۔اس وقت تک بانی احمدیت کا مطالعہ جو کچھ میں نے کیا ہے اور میں کیا جو کوئی خلوص و صداقت کے ساتھ ان کے حالات و کردار کا مطالعہ کرے گا اسے تسلیم کرنا پڑیگا کہ وہ صحیح معنی میں عاشق رسول تھے اور اسلام کا بڑا مخلصانہ درد اپنے دل میں رکھتے تھے۔انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا وہ نتیجہ تھا محض انکے بے اختیارانہ جذبہ خلوص اور داعیات حق وصداقت کا۔اس لئے سوال اُن کی نیت کا باقی نہیں رہتا۔البتہ گفتگو اس میں ہو سکتی ہے کہ انہوں نے کن معتقدات کی طرف لوگوں کو دعوت دی، سو اس پر روایتاً و در ایتاً دونوں طرح غور و تامل ہو سکتا ہے، لیکن بے سود کیونکہ اس کا تعلق صرف ان کے ایہال وعواطف سے ہوگا نہ کہ عمل وکردار سے اور اصل چیز عمل وکردار ہے۔اب رہا سوال میرے احمدی ہونے یا نہ ہونے کا سو ا سکے متعلق میں اسکے سوا کیا کہہ سکتا ہوں کہ