تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 631
تاریخ احمدیت 631 جلد ۲۰ جو ے جولائی ۱۹۶۰ ء کے اخباروں میں شائع ہوا ہے۔اس اعلان میں مسٹر خروشیف اپنے مخصوص انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ بہت جلد اشترا کی جھنڈا ساری دنیا پر لہرانے لگے گا اور اشتراکیت عالمگیر غلبہ حاصل کرے گی۔چنانچہ اس بارے میں اخباری رپورٹ کے الفاظ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔: آسٹریلیا ۶ جولائی۔روسی وزیر اعظم مسٹر خروشیف نے منگل کے دن یہاں کہا کہ مجھے کمیونسٹ ملک کے سوا کسی دوسرے ملک میں جا کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔آپ نے مزید کہا کہ میں ساری دُنیا پر اشترا کی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے اُسوقت تک زندہ رہنے کی خواہش ہے۔مجھے توقع ہے کہ میری اس خواہش کی تکمیل کا دن دور نہیں وو (نوائے وقت لاہورے جولائی ۱۹۶۰ء) خواہش کرنے کا ہر شخص کو حق ہے مگر ہم مسٹر خر وشیف کو گھلے الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔مسٹر خر وشیف ضرور تاریخ دان ہونگے اور انہوں نے لازماً تاریخ عالم کا مطالعہ کیا ہوگا کیا وہ ایک مثال بھی ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ دنیا کے کسی حصہ میں اور تاریخ عالم کے کسی زمانہ میں توحید کے مقابلہ پر شرک یا دہریت نے غلبہ پایا ہو؟ وقتی اور عارضی غلبہ کا معاملہ جدا گانہ ہے ( کیونکہ وہ نہر کے پانی کی اس ٹھوکر کا رنگ رکھتا ہے۔جس کے بعد پانی اور بھی زیادہ تیزی سے چلنے لگتا ہے ) جیسا کہ حضرت سرور کائنات فخر رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنگ اُحد میں ہوا مگر لمبا یا مستقل غلبہ کبھی بھی تو حید کے سچے علمبرداروں کے مقابل پر دہریت اور شرک کی طاقتوں کو حاصل نہیں ہوا اور نہ انشاء اللہ کبھی ہوگا قرآن واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ - : كتب الله لا غلبن انا و رسلی یعنی خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے کہ شرک اور دہریت کے مقابلہ پر اس کی توحید کے علمبر دار رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔زیادہ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں حضرت موسی کی طرف دیکھو کہ وہ کس کمزوری کی حالت میں اُٹھے اور ان کے سامنے فرعون کی کتنی زبر دست طاغوتی طاقتیں صف آرا تھیں مگر انجام کیا ہوا اس کے لئے لنڈن کے عجائب خانہ میں فرعون کی نعش ملا حظہ کر و۔حضرت عیسی کا یہ حال تھا کہ ایلی ایلی لما سبتقنی کہتے کہتے بظاہر رخصت ہو گئے مگر آج ان کے نام لیوا ساری دنیا پرسیل عظیم کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔حضرت فخر