تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 620
تاریخ احمدیت 620 جلد ۲۰ دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ سکول کے قیام کی بنیادی غرض کو مقدم رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ عام تعلیمی مقاصد کو وہ اہمیت حاصل نہ ہو۔جو انہیں لازمی طور پر حاصل ہونی چاہیئے۔جس بنیادی غرض کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔اس کا لازمی ا ہے۔اس کا لازمی اقتضا اور نتیجہ یہ ہونا چاہیئے کہ عام تعلیمی مقاصد کے حصول میں بھی تمام دوسرے سکولوں سے اس کا قدم آگے ہو۔یعنی جن تعلیمی مقاصد کا حصول بلا استثناء تمام سکولوں کے درمیان باہم مشترک ہے ان میں بھی یہ سکول دوسروں کے بالمقابل ہر لحاظ سے فضیلت حاصل کرے اور اپنی اس فضیلت کو برقرار رکھے۔تیسری بات یہ ہے کہ موجود زمانے میں سائنس کی بے انداز ترقی کے باعث انسانی زندگی جس نہج پر استوار ہو رہی ہے اور جو نئے مسائل ابھرا بھر کر سامنے آ رہے ہیں ان کے پیش نظر یہ بات ناگزیر ہوتی جا رہی ہے کہ تمام سکولوں میں درسی علوم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم کو بھی رائج کیا جائے اور طلبہ کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی جملہ صلاحیتوں کو بروئے کارلا کر نہ صرف اچھے تعلیم یافتہ بنیں بلکہ اچھے فن کا ر بھی ثابت ہوں۔مثال کے طور پر سکولوں میں زراعت اور کارپینٹری وغیرہ کے شعبے بآسانی قائم کئے جا سکتے ہیں۔اور طلبہ کو ان فنوں کی عملی تربیت دی جا سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ فنی تعلیم کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر حکومت نے گزشتہ چند سال سے فتنی تعلیم کا ایک علیحدہ ڈائریکٹر مقرر کیا ہوا ہے۔پس ہمارے سکولوں کو وقت کے ایک اہم تقاضے کو پورا کرتے ہوئے فتنی تعلیم کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہیئے۔ان اہم صدارتی ارشادات کے بعد جناب صاحبزادہ صاحب موصوف نے سکول کے طلبہ میں انعامات تقسیم فرمائے۔جناب جمال عبدالناصر صدر جمہوریہ جناب جمال عبدالناصر دورہ بھارت کے دوران ۵ اپریل ۱۹۶۰ء کو متحدہ عرب کی خدمت میں پیغام حق مدراس تشریف لائے۔جماعت احمد یہ مدر اس نے انہیں خوش آمد یہ کہا اور اُن کی خدمت میں تبلیغی مکتوب اور سلسلہ کی طرف سے شائع شدہ عربی انگریزی لٹریچر ارسال کیا۔مکتوب انگریزی میں تھا جس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔مولا نا شریف احمد صاحب امینی ان دنوں احمدیہ مسلم مشن مدر اس کے انچارج تھے۔