تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 619 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 619

تاریخ احمدیت ۴۴ 619 جلد ۲۰ شیرینی پیش کی گئی۔سنگ بنیاد کے ایک ماہ بعد اساتذہ جامعہ کا ایک وفد کوئٹہ بھجوایا گیا تا اس عمارت کے لئے عطیات کی تحریک کرے۔کوئٹہ کے مخلصین نے اس پر نہایت گرمجوشی سے لبیک کہا علا وہ ازیں مرزا محمد امین صاحب آف کوئٹہ نے بعد میں ایک گرانقدر رقم بھجوائی جس کا خصوصی ذکر پرنسپل جامعہ احمدیہ سید داؤ د احمد صاحب نے الفضل ۳۰ / اکتو بر ۱۹۶۰ ء میں فرمایا صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا ۳۰ مارچ ۱۹۶۰ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے تق خطبہ صدارت جلسہ تقسیم انعامات میں جلسہ تقسیم انعامات کی ایک پُر وقار تقریب شام چار بجے سکول کی عمارت میں منعقد ہوئی۔جس میں سکول کے طلبہ اور اسٹاف کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے ناظر و وکلاء صاحبان افسران صیغہ جات اور ربوہ کے تعلیمی اداروں کے ممبران اسٹاف نے بھی شرکت فرمائی علاوہ ازیں کی تحصیل چنیوٹ کے مقامی افسران اور دور و نزدیک کے متعدد ہائی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر صاحبان بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ایڈیشنل چیف سیکرٹری حکومت مغربی پاکستان تشریف لائے اور کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے۔تلاوت ونظم کے بعد سکول کے ہیڈ ماسٹرمیاں محمد ابراہیم صاحب نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے ہر میدان میں سکول کی روز افزوں ترقی پر روشنی ڈالی۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے اپنے خطاب میں سکول کی رفتار ترقی پر اظہار اطمینان کے رنگ میں فرمایا۔میں تین باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ اس سکول کے قیام اور اجراء سے قبل اور بہت سے ہائی سکول موجود تھے ہم دیکھتے ہیں اس کے باوجود اس سکول کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اس سکول کے قیام کی ایک خاص غرض اور ایک خاص مقصد تھا۔وہ غرض یہ تھی کہ اس سکول میں طلبہ کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جائے تا کہ وہ صحیح معنوں میں دیندار بنیں اور اچھے شہری ثابت ہوں۔ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ یہ غرض کما حقہ پوری ہوتی رہے اور اسے ہمیشہ ہی عام تعلیمی مقاصد پر نمایاں فوقیت حاصل رہے۔اس غرض کو پورا کرنے سے ہی سکول اپنے خصوصی امتیاز کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔