تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 611 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 611

تاریخ احمدیت 611 جلد ۲۰ وہاں جانے پر مسرت کا اظہار کیا۔اور میں نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں آپ کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔یہاں چند منٹ حاضری دینے کے بعد جب میں زینہ سے اُتر رہا تھا۔تو ایک صاحب ایک تحفہ لائے جو پیکٹ کی صورت میں تھا۔اور اس پیکٹ میں ایک رومال جرابوں کا ایک جوڑہ اور عطر کی ایک شیشی تھی یہ تحفہ میجر حبیب اللہ شاہ صاحب کی بھتیجی کی طرف سے مجھے بھجوایا گیا تھا۔جو میجر صاحب موصوف کے ساتھ میرے در بینہ اور مخلصانہ مراسم کی بناء پر تھا۔اس ملاقات سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ کالجوں میں گئے کیونکہ وہاں طلباء منتظر تھے سب سے پہلے تبلیغی کالج کے ہال میں پہنچے مائیکر وفون پر میرا تعارف کرایا گیا۔جس کیلئے میں نے شکر یہ ادا کیا۔اس کالج میں غیر ممالک میں بھیجنے کیلئے مبلغ تیار کئے جاتے ہیں اور طلباء میں کئی غیر ممالک مثلاً افریقہ اور جرمنی کے نوجوان بھی ہیں جو بے تکلف اردو بول سکتے تھے۔ان طلباء نے مختلف قسم کے سوالات شروع کر دئیے۔مثلاً میں نے اخبار کیوں بند کر دیا۔کتنے برس اخبار جاری رہا۔پاکستان کے متعلق کیا رائے ہے۔کتنے روز پاکستان میں قیام ہوگا۔ہندوستان میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔ہندوستان میں اردو زبان کا مستقبل کیسا ہے وغیرہ۔میں ان سوالات کا جواب دیتا رہا تو ایک طالب علم نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ احمدی مذہب کیوں قبول نہیں کرتے اس سوال کا جواب تو میں نے یہ دیا کہ میں نے اس مسئلہ پر آج تک کبھی غور نہیں کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میری تو دعا ہے کہ خدا آپ کو بھی اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں کامیابی نصیب نہ کرے اور اس دعا کی وجہ یہ ہے کہ احمدی جماعت میں جتنے نیک اور مخلص لوگ ملتے ہیں۔دوسرے کسی مذہب میں نہیں مل سکتے اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اس جماعت کا حلقہ محدود ہے اور میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجہ کے طور پر جب اس جماعت کو بھی بہت زیادہ وسعت نصیب ہوگی تو اس میں بھی بُرے لوگ شامل ہو جائیں گے۔جیسے دوسرے بڑے مذاہب میں شامل ہیں۔یعنی زیادہ کپوتوں کے مقابلہ پر چند سپوت زیادہ قابل قدر ہیں یا دوسری مثال یہ ہے کہ جب میں کسی چھوٹے سے خوبصورت اور معصوم بچہ کو دیکھتا ہوں تو میری خواہش ہوتی ہے کہ یہ بچہ کبھی بھی بڑا نہ ہو۔کیونکہ بڑا ہونے کی صورت میں یہ اپنے حسن اور اپنی معصومیت سے محروم ہو جائے گا۔میرے اس جواب کو سن کر تمام لڑکے ہنس پڑے۔۔۔اس تبلیغی کا لج کے بعد میں دوسرے کالجوں میں گیا کیونکہ وہاں کے طلباء بھی میرے منتظر تھے وہاں اسی قسم کے