تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 610
تاریخ احمدیت 610 جلد ۲۰ ایکسپریس میں ربوہ کے لئے روانہ ہوا۔کیونکہ یہٹر بینکراچی سے سیدھی ربوہ جاتی ہے۔یہ گاڑی شام کے وقت لائکپور پہنچی۔وہاں گیانی عباد اللہ موجود تھے میں ان کے اور ظفر صاحب کے ہمراہ مغرب کے وقت ربوہ ٹیشن پر پہنچا وہاں دوسو کے قریب طلباء اور دوسرے دوست اور معترف موجود تھے یہ مجمع میرے لئے خلاف تو قع تھا۔کیونکہ میں ایسے مجمع کا عادی نہیں ہوں اور میں تمام زندگی ہی تنہائی میں لطف محسوس کرتا رہا ہوں۔سٹیشن سے کار میں گیسٹ ہاؤس پہنچا۔وہاں احمدی جماعت کی کئی اہم شخصیتیں میری منتظر تھیں۔ان سے ملا۔ان تمام دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا۔کھانے کے بعد چند طلباء آئے۔اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کل میں ان کے سامنے تقریر کروں میں نے ان سے کہا کہ میں لیڈ ر کلاس میں سے نہیں ہوں نہ تو کبھی تقریر سننے جاتا ہوں اور نہ زندگی میں کبھی کوئی تقریر کی۔اور میں تو صرف ایک جر نلسٹ ہوں۔مگر آپ لوگوں سے ملنے آپ کے کالج ضرور آؤں گا۔رات کو آرام سے سو یا۔صبح پانچ چھ بجے کے قریب اذان ہوئی میں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی ایسی خوش الحانی کے ساتھ اذان نہ سنی تھی۔چنانچہ میں نے صبح ایک دوست سے یہ دریافت کیا۔کہ کیا اذان دینے والا عرب تھا۔یا پاکستانی۔تو معلوم ہوا کہ مؤذن ربوہ کا ہی ایک پاکستانی ہے نو بجے تک غسل وغیرہ سے فارغ ہوا۔تو کا رآ گئی۔اور مجھے بتایا گیا کہ مجھے مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں ناشتہ پر جانا ہے اس کار میں ان کے ہاں گیا۔وہاں ایک درجن کے قریب احمدی لیڈر موجود تھے اور سب کے سب روزہ میں تھے اور صرف میں ہی روزہ سے محروم تھا۔ناشتہ کے لئے کئی اقسام کی اشیاء موجود تھیں۔مگر میں دن کے وقت کچھ نہیں کھایا کرتا۔صرف ایک پیالی چائے پی۔یہ لوگ محبت اور اخلاص کے مجسمہ ہیں مختلف باتیں ہوتی رہیں۔میں نے ان سے مذاقاً کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگوں نے میرے خلاف ایک سازش کر رکھی ہے۔اور آپ لوگوں نے فیصلہ کیا ہے۔کہ آپ مجھے بغیر احمدیت کا کلمہ پڑھا نیکے واپس دہلی نہ جانے دیں گے کیونکہ لاہور کراچی میں احمدیوں کی محبت اور اخلاص کا شکار رہا۔اور اب یہاں بھی یہی کیفیت ہے۔یہاں باتیں کرنے اور ان کی محبت کا شکار ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ احمدی جماعت کے پیشوا حضرت صاحب کے مکان پر گیا۔کیونکہ وہاں ساڑھے نو بجے کا وقت ملاقات کے لئے مقرر تھا۔پرائیویٹ سیکرٹری کے کمرہ میں چند منٹ بیٹھنے کے بعد اوپر کی منزل میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔وہ لیٹے ہوئے تھے اور بیمار تھے۔انہوں نے انتہائی اخلاص اور محبت کے جذبات سے میرے