تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 606 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 606

تاریخ احمدیت 606 جلد ۲۰ قریب آپ بذریعہ موٹر کاراپنے آبائی وطن حافظ آباد ( ضلع گوجرانوالہ ) کی طرف روانہ ہو گئے۔سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون نے ہندوستان پہنچتے ہی اپنے اس اہم سفر کے دلچسپ حالات قلمبند کر کے ایڈیٹر صاحب اخبار بد ر قا دیان کو ارسال فرما دیے۔جو درج ذیل کئے جاتے ہیں۔: وو احمدی جماعت کے مرکز ربوہ میں چند گھنٹے“ ” جب ”ریاست“ جاری ہوا تو اس وقت میں نہ تو احمدی جماعت کے کسی شخص سے واقف تھا اور نہ اس جماعت کے متعلق کوئی کسی قسم کی واقفیت ہی تھی ریاست جاری ہونے کے پہلے سال میں ہی افغانستان میں احمدی جماعت کے ایک مبلغ کو افغان گورنمنٹ کے حکم سے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اور اس بیجارے کا جرم صرف یہ تھا کہ یہ احمدی خیالات کی تبلیغ کرتا تھا۔میں نے جب یہ اطلاع روزانہ اخبارات میں پڑھی تو میرے جسم میں ایک کپکپی سی پیدا ہوئی۔کیونکہ میں جب بھی ظلم ہوتا دیکھتا ہوں تو میرا خون کھولنے لگ جاتا۔اس اطلاع کو سن کر میں نے افغان گورنمنٹ اور کنگ امان اللہ کے خلاف ایک سخت ایڈیٹوریل لکھا۔اس ایڈیٹوریل لکھنے کا نتیجہ یہ ہوا۔کہ چند احمدی حضرات مجھے اصل واقعات بتانے کے لئے میرے دفتر میں آئے۔اور ادھر افغانستان کے قونصل جنرل مسٹر اکبر خاں آئے تا کہ وہ اپنی گورنمنٹ کی پوزیشن صاف کر سکیں یہ پہلا موقعہ تھا۔جب مجھے معلوم ہوا کہ دنیا میں کوئی احمدی جماعت بھی ہے۔جس کا شعار اپنے خیال کے مطابق اسلام کی تبلیغ ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر قادیان میں ہے کیونکہ میں زندگی بھر ہی مذہبی حلقوں سے قطعی بے تعلق رہا۔اس واقعہ کے بعد مجھے کبھی کبھی احمدی جماعت کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا اور اس جماعت کے کئی بزرگوں مثلاً محمد ظفر اللہ خان ڈاکٹر محمد اقبال صاحب مرحوم کے حقیقی بھتیجے مسٹر اعجاز احمد جو ایک زمانہ میں دہلی میں سب جج تھے۔اور میاں محمد صادق جو دہلی میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے سے دوستانہ تعلقات بھی رہے احمدی جماعت کے لوگ جب کبھی ملتے ان کی تبلیغی باتیں میرے لیئے نا قابل برداشت حد تک ذہنی کوفت کا باعث ہوا کرتیں کیونکہ میں فطر تا مذہبی دنیا سے قطعی الگ رہنا پسند کرتا ہوں مگر ان لوگوں کے ذاتی کیریکٹر اور بلندی کا بہت ہی مداح ہوں اور یہ واقعہ ہے کہ آج سے چند برس پہلے مجھے اپنے دفتر کیلئے جب کبھی کسی ایماندار شخص کی ضرورت ہوتی تو میں قادیان کے کسی دوست کو لکھتا کہ وہ اپنے