تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 604
تاریخ احمدیت 604 جلد ۲۰ فصل سوم کلکتہ عالمی کانفرنس میں کلکتہ میں مجلس ادیان عالم کے زیرا ہتمام ۲ فروری سے ۹ فروری ۱۹۶۰ء احمدی نمائندہ کی پُر اثر تقریر تک ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مذہبی نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب کے نقطہ نگاہ سے مسئلہ قیام امن پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر مولوی بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ کلکتہ نے نہایت موثر لیکچر دیا۔آپ نے بتایا کہ تمام گذشتہ مذاہب علاقائی تھے۔عصر جدید کا سب سے اہم تقاضا عالمگیر امن کا قیام ہے اور اسے وہی مذہب پورا کر سکتا ہے جو عالمگیر تعلیم پیش کرتا ہوا ور جس کے اندر تمام قوموں کو یکجا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔اسلام کا دعوی ہے کہ اُس کی ہمہ گیر تعلیم تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے اور بالخصوص صلح و امن کے مسئلہ پر دوسروں کے مقابل پر اس کی تعلیم ممتاز ہے۔آپ نے آیت لا نفرق بيــن احـد مـنهـم و نـحـن لــه مسلمون (البقره: ۱۳۷) کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مسلمانوں کو تا کیدی حکم فرماتا ہے کہ تمام نبیوں پر ایمان لاؤ۔قرآن کے نزدیک ہر ایک قوم و ملک میں نبی گزرے ہیں اور سب کے سب واجب الاحترام ہیں یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے صحیح استعمال سے قوموں کے درمیان پیدا شدہ منافرت دور ہو سکتی ہے۔لیکچر کے دوران جب مولانا صاحب نے ویدا ور گیتا کی شھرتیاں پڑھنا شروع کیں تو ہندوؤں پر وجد کی ایک کیفیت طاری ہو گئی۔اکثر دوست ان شلوکوں کو دھیمی دھیمی آواز سے دہراتے جاتے تھے۔بہت تھے جو اس لئے جُھوم رہے تھے کہ ابھی ان میں جو قرآنی آیات کو مجازی کے سے پڑھ رہا تھا اب وہ آریہ ورت کے آکاش اُپدیشوں کو ہندی سُر میں سُنا رہا ہے۔سامعین کا ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو زبان سے عدم واقفیت کے سبب خاموش تھا۔لیکن جب پروفیسر چوپڑہ صاحب ایم۔اے۔پی۔ایچ۔ڈی نے آپ کی تقریر کا انگریزی ترجمہ پیش کیا تو خاموش طبقہ بھی اُس وجدانی کیفیت سے حصہ پا کر داد سخن دینے لگا۔اس اثر انگیز تقریر کے بعد لوگوں کے دلوں میں احمد یہ لڑ پچر پڑھنے کا غیر معمولی