تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 587 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 587

تاریخ احمدیت 587 جلد ۲۰ آپ کو گھیرے رہے ہر شخص آٹو گراف لینا چاہتا تھا۔آپ نے کسی کو مایوس نہیں کیا۔( ترجمہ ) ڈاکٹر صاحب سائنس کانگرس میں شرکت کے بعد ۱۱/جنوری کو پہلے مدراس پھر ۱۳ / جنوری کو مدراس سے حیدر آباد دکن پہنچے اور اسی روز ۳ سے ۵ بجے شام تک عثمانیہ یو نیورسٹی سے پُر از علم خطاب فرمایا اور سوالوں کے جوابات دئے ڈاکٹر صاحب نے وسطی و جنوبی ہند کے اس طویل سفر کے دوران مقامی احمدی جماعتوں سے مثالی رابطہ رکھا اور جماعتوں نے بھی آپ کے شایان شان اور پُر جوش استقبال میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی علاوہ ازیں آپ کے اعزاز میں تقاریب منعقد کیں جو تبلیغی، تربیتی اور تعلیمی اعتبار سے بہت مفید ثابت ہوئیں اور سلسلہ احمدیہ کی آواز ملک کے بااثر اور چوٹی کے علمی طبقوں تک پہنچی۔دار اسلطنت دہلی (۲۳ / دسمبر ۱۹۵۹ ء ) بمبئی (۷ / جنوری ۱۹۶۰ ء ) مدراس (۱۲/جنوری ۱۹۶۰ ء ) اور حیدر آباد دکن (۱۳ / جنوری ۱۹۶۰ء) کی تقاریب کی مفصل رپورٹیں اخبار بدر قادیان میں بالترتیب مولانا محمد سلیم صاحب، مولوی سمیع اللہ صاحب قیصر مولوی شریف احمد صاحب امتی اور محمد عبد اللہ صاحب بی۔ایس سی۔ایل۔ایل۔بی حیدر آباد دکن کے قلم سے شائع شدہ ہیں۔ان تقاریب میں احمد یہ مسلم مشن بمبئی کی شاندار تقریب سب سے کامیاب رہی جسمیں آپ نے مغرب میں اسلام کا حال“ کے عنوان پر ایک پُر جوش لیکچر دیا نیز سوالوں پر جوابات دئے۔اس تقریب کا پریس میں بہت چرچا ہوا مثلاً روز نامہ الجمعیت، دہلی نے ۱۳ / جنوری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں ” برطانیہ کے مسلمان ڈیلیگیٹ ڈاکٹر " وو عبد السلام کی تقریر کے زیر عنوان لکھا :۔سائنس کی ترقی اسلام کے اصولوں کے قطعاً خلاف نہیں۔چنانچہ پندرھویں صدی عیسوی تک سائنسی غور و فکر پر مسلمانوں کا قبضہ رہا۔اور وہ دنیا پر چھائے رہے۔جب انہوں نے سائنس کو چھوڑ دیا تو یورپ کی قوموں نے اسے اپنا لیا اور ترقی کرتے رہے جس کے نتیجہ میں وہ آج تک دنیا پر اور عالمی فکر و خیال پر چھائے ہوئے ہیں۔یہ باتیں امپیریل کالج لندن کے شعبہ ریاضیات کے صدر اور رائل سوسائٹی آف لندن کے پہلے پاکستانی مسلمان ممبر ڈاکٹر عبدالسلام نے جو ہندوستانی سائنس کانگریس کے اجلاس کے سلسلہ میں آج کل یہاں آئے ہوئے ہیں احمد یہ مسلم مشن لائبریری کلب بیک روڈ میں ایک ضیافتی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہیں۔جلسہ کی صدارت احمد یہ مسلم مشن کے انچارج جناب سمیع اللہ صاحب