تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 584
تاریخ احمدیت 584 جلد ۲۰ کا ثبوت فرا ہم کر یں۔اگر ہم آج بھی گوش حق نیوش سے سنیں تو ہمیں امام مظلوم کے استغاثہ کی وہ آواز صاف سنائی دے رہی ہے جو آج سے چودہ سو سال قبل حضور سید الشہداء نے میدان کربلا میں بلند فرمائی تھی اور ہم آج بھی سید الشہداء کے اس استغاثہ کی آواز پر حسینیت یعنی اسلام حقیقی کی نشر و اشاعت کر کے لبیک کہہ سکتے ہیں۔آخر میں ہم مجاہد ملت مولانا خواجہ محمد لطیف صاحب قبلہ انصاری کی خدمت میں یہ گذارش کریں گے کہ جہاں انہوں نے شیعیان افریقہ کی تنظیم کے سلسلہ میں اہم اور زریں خدمات انجام دی ہیں اب وہ افریقہ میں تبلیغی مہم کا بھی آغاز فرما ئیں اور اس سلسلہ میں پوری سوچ بچار کے بعد ایک ایسا ٹھوس پروگرام مرتب فرمائیں کہ ہم بہت جلد حفیظ ملک نمائندہ نوائے وقت ہی کی زبان سے خوشخبری سنیں کہ افریقہ میں اثنا عشری مبلغین تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں نہایت ہی اہم اور شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں۔افریقہ کے اس معرکہ صلیب و ہلال کی گونج بھارت کے مسلم پریس میں چرچا بھارت میں بھی سنائی دی چنانچہ بمبئی کے مشہور اخبار انقلاب نے جولائی ۱۹۶۰ ء کی اشاعت میں حسب ذیل مقالہ افتتا حیہ لکھا :۔” اگر مسلمانوں کو تبلیغ کی وہی سہولتیں حاصل ہوتیں جو عیسائیوں کو ہیں اور اگر وو مسلمان مبلغوں کو اسی سطح پر تربیت دی جاتی جس سطح پر عیسائی مبلغوں کو دی جاتی ہے تو افریقہ میں مسلمانوں کی آبادی کہیں زیادہ ہوتی اور افریقہ مسلم براعظم کے نام سے یاد کیا جاتا بدقسمتی سے مولویوں اور ملاؤں کی بہت بڑی اکثریت اس قابل نہیں کہ نئے ڈھنگ سے اسلام کی تبلیغ کر سکے شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نام نہاد مولویوں اور ملاؤں کی وجہ سے اسلام کو فائدہ سے زیادہ نقصان پہونچ رہا ہے۔اس وقت افریقہ میں تبلیغ کی خدمات صرف ایک احمد یہ مشن انجام دے رہا اگر مسلمانوں کے دوسرے تبلیغی مشن بھی افریقہ پہنچیں تو وہاں زیادہ تیزی کے ساتھ اسلام کی روشنی پھیلائی جاسکتی ہے۔امریکہ کے ایک مشہور عیسائی مبلغ ڈاکٹر بلی گراہم نے حال ہی میں افریقہ کا دورہ کرنے کے بعد نیو یارک ٹائمر کے ایک نمائندے کو ایک بیان دیا ہے جس کے دوران میں اُنہوں نے کہا کہ افریقہ میں اسلام اور عیسائیت کے مابین سخت مقابلہ ہو رہا ہے اور ایک دن ایسا آ سکتا ہے کہ جب سارا افریقہ حلقہ بگوش اسلام ہو جائے۔“