تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 583 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 583

تاریخ احمدیت 583 جلد ۲۰ اپنا پسینہ بہائیں، لباس، انداز گفتگو اور شانِ علم میں عزت نہیں، عزت تو خدمت میں ہے۔لیکن خدمت سے ہمارے مبلغین کو واسطہ نہیں۔حالانکہ مشنری اور خدمت لازم وملزوم ہیں۔کیا ہمارے ہادیان دین نے اشاعت دین اور اعلائے کلمتہ الحق کا فرض اس طرح انجام دیا تھا۔جس طرح ہمارے آج کل کے علماء کرام اور مبلغین حضرات انجام دے رہے ہیں۔؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہادیان دین نے بے غرضی اور بے نفسی کے ساتھ لوگوں کی خدمت کی۔غریبوں مزدوروں۔مظلوموں۔بیماروں محتاجوں اور بیکسوں کی دادرسی کی۔ہر طرح کے خطروں اور آزمائشوں کو جھیل کر خدا کا پیغام سنایا اور ہر جگہ پہنچایا۔اور اس فرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں جس قدر تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھانا پڑیں۔اُن سب کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا۔ہمارے مبلغین حضرات کے لئے بھی یہی اسوۂ حسنہ قابل تقلید ہے لہذا ہم اپنے واجب التعظيم مبلغین کی خدمت میں یہ مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اگر وہ تبلیغ دین، ایسی اہم اور مقدس خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو آرام و آسائش کی زندگی کو خیر باد کہہ دیں اور محنت و مشقت کو اپنا نصب العین بنا ئیں۔اس وقت افریقہ میں تبلیغ کا میدان بڑا وسیع ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ افریقہ میں ہمیں اس سلسلہ میں ہر قسم کے وسائل بھی میسر ہیں۔ضرورت صرف اتنی ہے کہ افریقہ میں مقیم ہمارے مبلغین حضرات اپنے میں صحیح مشنری سپرٹ پیدا کریں اور یا علی کہہ کر اٹھ کھڑے ہوں۔تو ہمیں یقین کامل ہے کہ ہمارے مبلغین دیکھتے ہی دیکھتے احمدی اور عیسائی مبلغین سے سبقت لے جائیں گے کیونکہ اسلام حقیقی کی نشر واشاعت کا جو بہترین ذریعہ ہمارے پاس ہے وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں ہے حسین مظلوم کا درد بھرا قصہ ایسا ہے۔جو اپنوں بیگانوں۔گوروں۔کالوں۔پڑھے لکھے جاہلوں سب کو اپنی طرف کھینچنے کی پوری پوری اہلیت رکھتا ہے اور یہی قصہ اسلام کی نشر واشاعت کا بہترین ذریعہ ہے۔سید الشہداء حضرت امام حسین نے تبلیغ مذہب اور حفاظت دین کے لئے جو بے بہا قربانیاں میدان کربلا میں پیش فرما ئیں کیا اُن کا ذکر صرف اس لئے ہے کہ ہم چند آنسو بہا کر اپنے حسینی ہونے کا دعویٰ کرنے لگیں؟ یا اُن قربانیوں کا تذکرہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم بھی اسوۂ حسینی کو اپنا ئیں اور سید الشہداء حضرت امام حسین کے نقش قدم پر چل کر حفاظت دین اور تبلیغ اسلام کے لئے اپنا تن من دھن نچھاور کریں۔اور اس راہ میں جو مصائب و تکالیف پیش آئیں انہیں خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کر کے اپنے سچا حسینی ہونے