تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 576 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 576

تاریخ احمدیت 576 جلد ۲۰ خواہش ظاہر کی کہ نئے خطوط پر افریقہ میں عیسائیت کی تبلیغ کے انتظامات کیئے جائیں انہی خیالات کا اظہار انہوں نے صد ر ا مریکہ جان ایف کینیڈی سے بھی کیا اس زبر دست اضطراب کی بازگشت یورپ میں بھی سنائی دی گئی چنانچہ لنڈن کے بشپ نے افریقہ میں اسلام کی پیشقدمی پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا اور عیسائیوں سے اسلام کے خلاف ایک متحدہ عیسائی محاذ قائم کرنے کی اپیل کی۔چنانچہ انہی دنوں روز نامہ ” نئی روشنی کراچی نے برطانوی نامہ نگار کے حوالہ سے حسب ذیل خبر شائع کی۔لندن یکم اپریل ( سمیع الدین نمائندہ نئی روشنی ) لندن کے بشپ نے یہ شرانگیز تجویز پیش کی ہے کہ چونکہ افریقہ میں اسلامی مبلغین اور عیسائی مشنریوں کے درمیان لوگوں کو مشرف بہ اسلام کرنے اور عیسائی بنانے کی مہم میں زبر دست مقابلہ ہو رہا ہے اور اسلام بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے اس لئے ایک ادارہ اینٹی اسلام پروجیکٹ (یعنی ادارہ مخالفین اسلام ) قائم کیا جائے بشپ مذکور بی بی ایس ریڈیو پر اسلام اور عیسائیت کے مقابلہ کے عنوان سے ایک پروگرام میں حصہ لے رہے تھے بشپ مذکور نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ” در حقیقت پہلی بار اب عیسائیت اور اسلام کا مقابلہ ہو رہا ہے اور پاکستان کے مذہبی رہنما مغربی افریقہ میں بسنے والے افراد کو وسیع پیمانے پر مشرف بہ اسلام کر رہے ہیں حالانکہ عیسائی مشنری عرصہ سے اس علاقہ میں سرگرم ہیں لیکن ان کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے اور ان میں سخت مایوسی پھیلی ہوئی ہے عیسائی مشنریوں کو مایوسیوں اور نا کامیوں سے بچنے کے لئے آرک بشپ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ عیسائی مشنری اسلام کی اشاعت کو ( نعوذ باللہ ) روکنے کیلئے اسلام دشمن پر و جیکٹ بنایا جائے چنانچہ اس اسکیم کو عملی جامعہ پہنا دیا گیا اور اینٹی اسلام پروجیکٹ کے نام سے ایک ادارہ بنا دیا گیا ہے واضح رہے کہ ہر سال عیسائی مشنریوں کے ذریعہ کروڑوں روپیہ عیسائیت کی نشر و اشاعت پر خرچ ہوتا ہے۔لندن کے بشپ نے افریقہ کے جنگلوں میں بسنے والے افراد کی امداد کے لئے چار لاکھ روپیہ کی رقم کا عطیہ دیا ہے لندن کے آرک بشپ کی طرف سے یہ شر انگیز اور اسلام دشمن مہم کوئی نئی بات نہیں ہے۔آئے دن عیسائی مشنری مسلمانوں اور اسلام کو زک پہنچانے کے لئے طرح طرح کے دل آزار اور شرانگیز فتنے چھوڑتے رہتے ہیں " اینٹی اسلام پروجیکٹ بھی اس فتنہ کی ایک کڑی ہے اور دین برحق پر پیسہ کے زور سے فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ راست بازی کے ذریعے تو افریقی عوام کا دل جیت نہیں سکے اب نقر کی وطلا ئی تھیلوں کا منہ کھول کر اسلام کے خلاف صف