تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 574 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 574

تاریخ احمدیت 574 جلد ۲۰ سروسز کینیا کے ڈاکٹر صاحب کے نزدیک لا علاج ہوں۔ان تمیں مریضوں میں سے دس یورپین، دس ایشیائی اور دس افریقن ہوں۔انہیں قرعہ کے ذریعہ میرے اور آپ کے درمیان مساوی تعداد میں بانٹ لیا جائے۔پھر دونوں مذاہب کے پیروؤں میں سے چھ چھ آدمی ہمارے ساتھ اور آ شامل ہوں اور ہم اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مریضوں کی صحت یابی کے لئے خدا کے حضور دُعا کریں تا کہ اس امر کا فیصلہ ہو سکے کہ کس کو خدا کی تائید و نصرت حاصل ہے اور کس پر آسمان کے دروازے بند ہیں۔(۵) مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ تجویز قبول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔کیونکہ یہ عین اُن اصولوں کے مطابق ہے جو یسوع مسیح نے خود بیان فرمائے ہیں لیکن اگر آپ نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کیا تو دنیا پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں اور دو اور دو چار کی طرح ثابت ہو جائے گی کہ صرف اور صرف اسلام ہی وہ زندہ مذہب ہے جو خدا کے ساتھ تعلق قائم کر نیکی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔آپ کا مخلص ( دستخط ) شیخ مبارک احمد رئیس التبليغ احمد یہ مسلم مشن مشرقی افریقہ ( نیروبی ) اگر چہ ڈاکٹر گراہم نے شیخ مبارک احمد صاحب کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا۔لیکن جب وہاں کے اخبارات میں اس چیلنج کا خوب چرچا ہو ااور اخبارات نے شیخ صاحب کا فوٹو شائع کر کے آپ کے چیلنج کو اہمیت دی تو ایک شخص نے اس چیلنج سے متاثر ہو کر ڈاکٹر گراہم کے ایک پبلک لیکچر کے بعد ان سے سوال کیا کہ کیا وہ کوئی ایسی مجلس بھی منعقد کریں گے جس میں وہ بیماروں کو چنگا کرنے کے لئے خدا سے استمداد کریں۔اس پر اُنہوں نے سراسر عجز کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔میرا کام محض وعظ کرنا ہے مریضوں کو چنگا کرنا نہیں۔اس جواب پر نیروبی کے نامور اخبار دی سنڈے پوسٹ نے اپنی ۶ / مارچ ۱۹۶۰ء کی اشاعت کے صفحہ ۲۶ پر لکھا :۔دو اسلام کا چیلنج جلسے کے بعد ڈاکٹر گراہم نے بالواسطہ طور پر اس چیلنج کا جواب دیا جو انہیں اس امر کے فیصلے کیلئے دیا گیا تھا کہ اسلام اور عیسائیت میں سے کونسا مذ ہب سچا ہے۔یہ چیلنج احمد یہ مسلم مشن کے رئیس نے گزشتہ جمعہ کے روز دیا تھا۔“ وو شیخ مبارک احمد نے تجویز پیش کی تھی کہ تمہیں لاعلاج مریض منتخب کئے جا ئیں ان