تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 42 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 42

تاریخ احمدیت فصل پایم 42 جلد ۲۰ مرکزی دفتر کی بنیاد تعمیر اور افتتاح ۲۹ دسمبر ۱۹۶۲ء کو اڑھائی بجے بعد دو پہر وقف جدید کے مرکزی دفتر کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب عمل میں آئی۔تلاوتِ قرآن کے بعد جو مولوی نصیر احمد صاحب شاہد مربی سیالکوٹ نے کی۔خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشاد و رکن مجلس وقف جدید نے بیت مبارک قادیان کی ایک اینٹ بنیاد میں رکھی۔بعد ازاں رفقائے حضرت مسیح موعود میں سے حضرت حاجی محمد فاضل صاحب ربوہ ، حضرت حکیم انوار حسین صاحب خانیوال، حضرت منشی عبدالحق صاحب خوشنویس ربوه محترم چوہدری فتح دین صاحب، حضرت مولوی محمد عثمان صاحب امیر جماعت احمد یہ ڈیرہ غازی خان اور حضرت صوفی محمد رفیع صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ خیر پور ڈویژن نے بنیادی اینٹیں رکھیں۔مجلس وقف جدید کے جن ممبران نے بنیاد میں ایک ایک اینٹ رکھی ان میں حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ صدر مجلس وقف جدید، خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء، ملک سیف الرحمن صاحب، مولوی عبد الرحمن صاحب انور، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید، مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب شامل تھے۔امراء علاقائی و اضلاع میں سے حضرت مرزا عبدالحق صاحب (امیر جماعت احمدیہ سابق صوبہ پنجاب و بهاولپور ) مولوی محمد صاحب (امیر جماعت ہائے احمد یہ مشرقی پاکستان ) رحمت اللہ صاحب (امیر جماعت احمد یہ کراچی) چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ (امیر جماعت احمد یہ گجرات) نے بھی ایک ایک اینٹ بنیاد میں رکھی۔علاوہ ازیں قاضی محمد رفیق صاحب لاہور نے بھی۔یہ سب احباب دعائیں کرتے ہوئے باری باری اینٹیں رکھتے جاتے تھے اور ساتھ ہی جملہ حاضرین بھی مصروف دعا تھے۔آخر میں خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے اجتماعی دعا کرائی۔دفتر وقف جدید کی شاندار عمارت تعمیر کے مختلف مراحل میں سے گزرتے ہوئے جب ایک حد تک مکمل ہو گئی تو ۱۹ را پریل ۱۹۶۴ ء کو اس کا افتتاح ہوا۔اس پُر مسرت تقریب میں شرکت کے لئے مدعوین حضرات ساڑھے تین بجے سہ پہر سے ہی آنے شروع ہو گئے تھے۔وقف جدید ۳۶