تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 562 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 562

تاریخ احمدیت 562 جلد ۲۰ وو میں نے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کرسچین کونسل آف نائیجیریا کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ آپ کی اور مسلمان لیڈروں کی ملاقات کا انتظام کیا جائے میری یہ تجویز ” بلی گراہم مہم کمیٹی جو کہ آپ کی آمد کے سلسلہ میں جملہ انتظام کر رہی ہے کے سامنے رکھ دی گئی تھی۔لیکن میری اس تجویز کو کمیٹی نے اس عذر کے ساتھ رد کر دیا تھا کہ آپ اپنے دورہ کو نہایت مختصر کرنے پر مجبور ہیں اور اسکی وجہ ڈاکٹری ہدایات ہیں مجھے اس بات کا پورا پوار احساس ہے کہ آپ کا کام زیادہ تر عیسائیوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن یہ بات تو میرے خیال میں بھی نہیں آ سکتی کہ آپ کسی ایسے موقع کو ضائع ہونے دینا چاہیں گے۔جو مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے مہیا کیا جا رہا ہو۔خصوصا جب کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات کی خوشگواری کا سوال پیدا ہوتا ہو۔66 بہر حال آپ کی مذہبی پوزیشن کے پیش نظر میں نے آپ کی خدمت میں چند ایک کتابیں ارسال کی ہیں جو مجھے امید ہے کہ آپ ضرور پڑھیں گے۔“ یہ خط میں نے ستائیس جنوری کو لکھا تھا۔یکم فروری کو ویسٹ افریقین احمد یہ نیوز ایجنسی نے اپنے ایک نمائندہ خصوصی کے حوالے سے ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں اس تمام خط و کتابت کا ذکر کیا گیا تھا اور خاکسار کے ان مضامین کا متن بھی درج کیا گیا۔جو اس دوران خاکسار نے اپنے ہفتہ واری کالموں میں لکھے تھے ان میں سے ایک مضمون جو اخبار ڈیلی سروس میں چھپا تھا۔اس مضمون کا حامل تھا کہ حضرت مسیح ناصری کی انجیل دراصل حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی آمد ہی کی خبر تھی۔اور وہ اسی بات کی منادی کرنے کیلئے دنیا میں تشریف لائے تھے۔اس موقع پر خاکسار نے ڈاکٹر بلی گراہم کی ایک کتاب کا حوالہ دے کر ایک مختصرسی عبارت کے ساتھ ایک پوسٹر شائع کیا۔پوسٹر کا مضمون یہ تھا : - ڈاکٹر بلی گراہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو شروع سے آخر تک پڑھ جائیے اس میں کہیں بھی کسی پیشگوئی کا ذکر نہیں ہے اگر ڈاکٹر بلی گراہم کو اس بات کا یقین ہے کہ جو بات انہوں نے کہی ہے وہ درست ہے تو وہ ہم سے پہلک مناظرہ کر لیں۔“ اس پوسٹر سے تو گویا یہ سارا معاملہ بھڑک اٹھا بیرونی اخبارات کے کثیر التعداد نمائندے احمد یہ مشن آئے اور سارے حالات سُن کر انہوں نے دنیا بھر کے اخباروں میں ہمارے چیلنج کی خبر میں شائع کروا ئیں۔اس چیلنج کا سب سے زیادہ پرو پیگنڈہ امریکہ میں