تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 563 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 563

تاریخ احمدیت 563 جلد ۲۰ ہو ا۔وہاں کے اخباروں اور رسالوں نے نہ صرف اس خبر کو جلی حروف میں شائع کیا بلکہ اس پر ایڈیٹوریل بھی لکھے اور کھلم کھلا اس بات کا اظہار کیا کہ اگر عیسائی مشنری کسی بات کو کہہ کر اس بات پر قائم نہیں رہ سکتے تو ایسی بات کہتے ہی کیوں ہیں۔دنیا کے سب سے زیادہ اشاعت والے ہفتہ وار ٹائم (TIME) نے جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے اس خبر کو دو کالموں میں لکھا۔اور یہ پہلا ہی موقع تھا کہ ہمارے ایک پمفلٹ کی تقسیم اور اس کے نفس مضمون کا نمایاں طور پر ذکر کیا۔ٹائم میں شائع شدہ خبر کا ترجمہ درج ذیل ہے :۔مسلمان اور بلی“ گزشتہ ہفتہ سفید فام بلی گراہم نے جن کے متعلق نائیجیریا کے بعض باشندوں کا یہ کہنا تھا کہ ان کی کھال اڑی ہوئی ہوتی ہے اپنے افریقی مذہبی جہاد کو جاری رکھا جہاں کہیں بھی وہ گئے بہت بڑے ہجوموں نے ان کی تقاریر کو سنا اور مسیح کے لئے فیصلے کئے۔لیگوس میں جو کہ نائیجیریا کا درار الخلافہ ہے گراہم نے ایک لاکھ آدمیوں سے خطاب کیا۔جس میں سے کم از کم دو ہزار اشخاص نے مسیح کیلئے فیصلہ کیا۔اس فیصلہ کا اظہار مکمل خاموشی میں کیا جا تا رہا۔یہ خاموشی نائیجیریا میں جہاں کہ حد سے زیادہ شور و شغب ہوتا ہے۔ایک نہایت عجیب چیز تھی ان کی تقریر سننے کے لئے مسلمان بھی کافی تعداد میں میدان تقریر میں پہنچے۔کیونکہ یہ تمام ان مقررین سے مختلف تھے جن کو افریقیوں نے پہلے سنا ہوا ہے۔ایک مسلمان کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا یہ شخص تو بالکل ہم جیسا ہی معمولی انسان ہے۔اس کو ہرگز یہ دعوی نہیں کہ یہ کسی غیر معمولی طاقت کا مالک ہے اور نہ ہی یہ کوئی ایسا طریق بتاتا ہے جو عیسی (علیہ السلام ) کے نقش قدم پر چلنے میں آسانی پیدا کرتا ہو۔“ لیکن مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اور مسلمان جو کہ کل آبادی یعنی ساڑھے تین کروڑ کے نصف کے قریب ہیں۔گراہم کی آمد سے خوش نہیں تھے۔بلی گراہم کے نائیجیر یا پہنچنے سے قبل مسلمانوں کے لیڈروں نے ان کے ساتھ ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔لیکن ان کے ہراول دستہ نے اس تجویز کو رد کر دیا تھا اور رد کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ ( گراہم ) بہت مصروف ہیں جواب یہ دیا گیا تھا :۔ڈاکٹر گراہم کے متعلق آپ ان کی تقاریر سُن کر واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔“ نائیجیریا کے مسلمان جو اس بات پر مغرور ہیں کہ دسمبر کے الیکشن میں ان کا مسلمان وزیر اعظم اپنے عہدے پر قائم رہا۔اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ دورہ اس لئے کروایا گیا ہے تا کہ عیسائیوں کو