تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 560
تاریخ احمدیت 560 جلد ۲۰ یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جب یہ دستہ فری ٹاؤن پہنچا تو خاکسار کے ایک پمفلٹ جس کا عنوان ہے یا درکھنے کے قابل پانچ نکات کی تلاش میں اس دستہ کے چند ایک افراد بو (BO) بھی پہنچے اور وہاں سے اس پمفلٹ کی ایک کاپی لے کر پھر آگے روانہ ہوئے۔بہر حال جب یقین ہو گیا کہ ڈاکٹر بلی گراہم نائیجیریا کا ضرور دورہ کریں گے۔تو خاکسار نے کرسچین کونسل کو مندرجہ ذیل خط لکھا :۔” مجھے اخبارات اور ریڈیو سے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ مشہور عالم عیسائی منا د بلی گراہم جنوری ۱۹۶۰ء میں نائیجیریا آر ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ کرسچین کونسل اس بات کے امکان پر غور کرے کہ بلی گراہم اور ملک کے مسلمان لیڈروں اور خاص طور پر لیگوس کے مسلمان لیڈروں کی ملاقات کا انتظام کیا جائے۔مجھے یقین ہے کہ ایسا کرنے سے اسلام اور عیسائیت جو کہ نایجیریا میں دوا ہم مذہب ہیں کے پیروکاروں کے آپس میں تعلقات بہت حد تک خوشگوار ہو جائیں گے۔اور اس بات میں کسے شک ہوسکتا ہے کہ اس وقت نائیجیریا کی سب سے بڑی ضرورت بلکہ ساری دنیا کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے آپس میں تعلقات زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنائے جائیں۔اگر تبادلہ خیال کے لئے بلی گراہم اور مسلمان مبلغین کی میٹنگ کا انتظام کیا جا سکے تو یہ امر بھی نہایت ہی قابل تعریف سمجھا جائے گا۔مجھے امید ہے کہ آپ عنقریب ہی میرے اس خط کا جواب دیں گے۔“ مندرجہ بالا خط ۲ / نومبر ۱۹۵۹ ء کو لکھا گیا تھا۔اس خط کے جواب میں کرسچن کونسل کے سیکرٹری صاحب نے مجھے لکھا کہ انہیں افسوس ہے کہ بلی گراہم کے دورے کے انتظامات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں لیکن تا ہم وہ میرا خط اس کے وہ میرا خط اس کمیٹی کے سپر د کر دیں گے۔جو اس دورے کے انتظامات کر رہی ہے۔نومبر کو مجھے ایک صاحب JHON۔E۔MILLS کی طرف سے مندرجہ ذیل خط ملا :۔و کرسچین کونسل آف نائیجیریا کے سیکرٹری صاحب نے مجھے آپ کا وہ خط ارسال کیا ہے جس میں آپ نے بلی گراہم اور مسلمان لیڈروں کی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔میں آپ کا یہ خط بلی گراہم مہم ( CAMPAIGN) کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو جس کی میٹنگ سوموار (۹ / نومبر ) کے روز منعقد ہو رہی ہے دے دوں گا۔میٹنگ کے بعد میں پھر آپ کو خط لکھونگا۔“ وو