تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 550 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 550

تاریخ احمدیت 550 جلد ۲۰ دقیق اور فلسفیانہ بخشیں مترجم نے بہ قول خود عمداً ترک کر دی ہیں۔مترجم نے ترجمہ کے علاوہ حاشیے بھی اپنی طرف سے بڑی تعداد میں دیئے ہیں جن سے توضیح مطالب میں بڑی مددمل جاتی ہے اور شروع میں ۲۵ صفحہ سے زائد کا ایک مفصل پیش لفظ خود ابن رشد اور فقہ اور فقہاء پر دیا ہے۔مگر حیرت ہے کہ مترجم کا نام کہیں بھی درج نہیں۔شروع میں فہرست مضامین بھی اچھی ہے۔پیش لفظ ہی کی بعض عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کی یہ صرف پہلی جلد ہے اور شاید ایک آدھ جلد ابھی اور شائع ہو اس کی پوری تصریح سرورق اور دیباچہ میں ضروری تھی۔کتاب اپنے مرتبہ اور اپنی نافعیت کے لحاظ سے اس کی مستحق ہے کہ اردو میں پوری منتقل کر کے لائی جائے۔(۲) المسند للامام احمد بن حنبل ( عربی ) الجزء الاول ۱۶+۲۲۲ صفحه مجلد۔قیمت ۱۰ آنے پتہ ادارۃ المصنفین ربوہ۔ضلع جھنگ (پاکستان) امام احمد بن حنبل البغدادی (۱۶۴ھ تا ۲۴۱ ھ ) کی مسند حدیث نبوی کی تختیم ترین ہی نہیں بلکہ مشہور و مقبول ترین کتابوں میں سے ہے اور کہا جاتا ہے کہ چالیس ہزار حدیثوں کی جامع ہے۔کتاب پڑھے لکھوں کے سامنے کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن چونکہ اس کی ترتیب موضوع وار نہیں بلکہ روایت کرنے والے صحابیوں کے نام کے حساب سے ہے اس لئے کسی خاص مضمون کی حدیث اس میں تلاش کرنا بڑے جگر کا کام ہمیشہ رہا ہے اور طلبہ فن کی یہ آرز وصدیوں سے چلی آرہی تھی کہ کاش کوئی صاحب ہمت اس ضخیم و بیش بہا مجموعہ کو مضمون کے اعتبار سے از سر نو مرتب کر کے انہیں ابواب میں تقسیم کر دے۔جیسا کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ ہیں۔بڑی خوشی اور دلی مسرت کا مقام ہے کہ یہ سعادت ادارۃ المصنفین ربوہ کے حصہ میں آئی اور اس نے اسی جدید ترتیب کے ساتھ اس قدیم و ضخیم مجموعہ کو شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔پیش نظر اس کی صرف جلد اول ہے۔یہ حسب ذیل بابوں پر مشتمل ہے :- (۱) کتاب ذات اللہ تعالیٰ وصفاتہ (ابواب نمبر ا فی ذات اللہ۔ابواب نمبر ۲ فی صفات اللہ )۔(۲) کتاب بدء الخلق (۳) کتاب القدر (۴) کتاب الملائکہ۔(۵) کتاب الوحی والرؤیا ( ابواب الوحی۔ابواب الرؤیا۔النبی و مکاشفتہ ) (۶) کتاب الانبیاء كلمة الادارة کے زیر عنوان جو سات صفحہ کا عربی پیش لفظ ہے اس کے اور مفصل فہرست مضامین کے علاوہ آخر میں مسند کے سابق ایڈیشن کے حوالے موجود ہیں۔ہر صفحہ کے نیچے حاشیئے خاص طور پر قیمتی ہیں۔ان میں نہ صرف ہر حدیث کے ضعف وصحت کی تصریح ہے بلکہ ان حدیثوں