تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 535
تاریخ احمدیت 535 جلد ۲۰ ملاقات کر کے آپ نے جماعت احمدیہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔عربوں نے سلطان زنجبار کی سالگرہ خاص اہتمام سے منائی۔نیز زنجبار کے شاہی خاندان کا ایک شہزادہ سلطان کے نمائندہ کی حیثیت سے ممباسہ آیا۔اس کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں جناب شر ما صاحب بھی مدعو تھے۔انہوں نے شہزادہ صاحب کو دورانِ ملاقات جماعت احمدیہ سے متعارف کرایا۔نیز لٹریچر بھی ارسال کیا جولائی سے ستمبر تک کے عرصہ رپورٹ میں آپ نے قریباً سترہ سو میل سفر کر کے متعدد مقامات کا دورہ کیا۔سالی لینڈ کے قریب لاموں عربوں کا ایک پرانا قصبہ ہے جس کے قاضی اور بعض علماء سے ملاقاتیں کیں۔نیز عربی اور سواحیلی لٹریچر تقسیم کیا۔عربوں کا ایک اور اہم قصبہ مالنڈی ہے۔وہاں آپ نے عرب معززین سے ملاقات کی اور سلسلہ کا لٹریچر دیا۔نیز اباضی فرقہ کے ایک عالم اور لیجسلیٹو کونسل کے ایک معز ز صومالی ممبر سے تبادلہ خیالات کیا۔آپ کی مساعی سے چالیس افریقن داخل احمدیت ہوئے۔مولوی محمد منور صاحب فاضل کی سہ ماہی رپورٹ (جنوری تا مارچ ۱۹۵۹ء) سے پتہ چلتا ہے کہ مولوی نورالدین صاحب منیر ایڈیٹر ایسٹ افریقن ٹائمز“ ایک ماہ کے لئے یوگنڈا تشریف لے گئے جس دوران آپ نے ادارت سنبھالی اور دو پرچے شائع کرائے۔ماؤ ماؤتحریک کے متعدد عیسائی قیدیوں کی طرف سے خطوط موصول ہوئے کہ وہ عیسائیت سے بیزار ہیں اور ( دین حق ) کے مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں جس پر آپ نے قرآن مجید ترجمہ سواحیلی کے تیرہ نسخے اور اس سے چار گنا کتب اور اخبارات ان قیدیوں کو بھجوائے۔مولوی عبد الکریم صاحب شرما نے ممباسہ کے متعدد تعلیم یافتہ عرب اور افریقن تک پیغام صداقت پہنچایا۔چیدہ لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔عرب سیکنڈری سکول اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کی طرف خصوصی توجہ دی۔ایک بار زنجبار کے ایک تاجر آپ سے حضرت مسیح موعود کی عربی کتب لے گئے۔دوبارہ آئے تو کہنے لگے خدا کی قسم میں نے ان کتابوں میں نور پایا ہے۔میرا ایمان ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے اور مجھے یقین ہے کہ احمدیت ضرور پھیل کے۔رہے گی۔چوہدری عنایت اللہ صاحب انچارج مشنری ٹو را سارا سال دینی خدمات میں منہمک رہے۔وہ یوگنڈا کے دورہ پر بھی تشریف لے گئے۔سال کی دوسری ششماہی میں انہوں نے ۹ دیہات کا دورہ کیا ۹۳۵ میل سفر کیا اور ۵۰۰ سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچایا۔