تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 534
تاریخ احمدیت 534 جلد ۲۰ پڑھتے رہے اور ان کے خیالات میں عظیم الشان انقلاب پیدا ہو گیا۔ان میں سے بھاری اکثریت عیسائیوں کی تھی اور تھوڑے سے لوگ بے دین اور کچھ مسلمان تھے سب نے اس تاثر کا اظہار کیا ہے کہ انہیں ہمارے لٹریچر سے بڑا روحانی اور مذہبی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ایک سمجھدار اور تعلیم یافتہ افریقن نے تو یہ بھی لکھا کہ اگر قرآن مجید کا ترجمہ سواحیلی دس سال پہلے ہو جاتا تو کینیا کی مشکلات کا خود بخود خاتمہ ہو جاتا۔اس نے یہ بھی لکھا کہ وہ اور ان کے ساتھی صرف ترجمۃ القرآن پڑھ کر مسلمان ہوئے حالانکہ اس سے قبل وہ ( دین حق ) کے شدید دشمن تھے۔“ شیخ مبارک احمد صاحب نے عرصہ زیر رپورٹ میں قریباً ۱۶۰ افریقوں ، دس ایشیائیوں، چھ عربوں اور پانچ یورپیوں تک پیغام حق پہنچایا۔۴۳۷ خطوط تحریر فرمائے۔قریباً چار سو پیکٹ سواحیلی و انگریزی لٹریچر کے خریداروں اور جماعتوں میں بھجوائے۔پندرہ روزہ سواحیلی اخبار مینیزی یا منگو (MAPENI YA MUNGU) کی ہر اشاعت کے چھ سو پیکٹوں کی ترسیل کا بھی انتظام کیا۔اکتوبر میں آپ نے ٹورا کا ایک ہفتہ کے لئے دورہ کیا۔احمد یہ بیت الذکر ٹبورا میں ایک سو سے زائد غیر از جماعت افریقن دوست چائے پر مدعو کئے گئے۔جماعت کے مرد و عورت بھی موجود تھے۔اس موقعہ پر آپ نے ایک نکاح کا اعلان کرتے ہوئے اسلامی خطبہ نکاح پر نہایت شرح و بسط سے بصیرت افروز روشنی ڈالی۔بعد میں ہر ایک کو جماعتی لٹریچر بھی دیا گیا۔احمدی احباب کا کہنا تھا کہ جب سے خدا کا یہ گھر تعمیر ہوا ہے اتنی تعداد میں غیر از جماعت دوستوں ا یہ پہلا اجتماع تھا۔شیخ صاحب کی اس فاضلانہ تقریر کا شہر میں بہت چرچا ہوا۔نیا نزا پر اونس کے انچارج مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل نے اس سال ۲۶۸۷ میل سفر کیا جس میں سے ۵۰۰ سے زائد میل پیدل تھا۔۶۱ معززین تک جن میں گورنمنٹ افسر بھی تھے پیغام حق پہنچایا۔۱۵۱۱۵ اشتہارات، اخبارات اور کتب تقسیم و فروخت کیں۔۱۱۳۹۵ افراد کو بذیر یعہ ملاقات احمدیت سے متعارف کرایا۔آپ نے نیا نزا اپر اونس کے طول و عرض میں مع چار سو معلمین کے قریباً ہمیں دورے کئے۔شمالی اگنیاں کے چیف مسٹر جوں را ڈیڈ وکو قرآن کریم کا ترجمہ سواحیلی تحفہ پیش کیا جس پر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور بعد میں بوقت ملاقات بتایا کہ میں قرآن مجید باقاعدہ پڑھتا ہوں اور اس کے مسائل پر غور کرتا ہوں۔آپ نے آریہ سماج کے ایک جلسہ میں ” خدا تعالیٰ کی صفات کے موضوع پر تقریر فرمائی۔مولوی عبدالکریم صاحب شرما کی رپورٹ جنوری تا مارچ ۱۹۵۹ء کے مطابق ضلع ٹائٹھا میں آپ کی مساعی سے ایک نئی جماعت قائم ہوئی۔یہاں کے ڈسٹرکٹ آفیسر اور چیف سے