تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 525 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 525

تاریخ احمدیت 525 جلد ۲۰ جرمنی تھا۔بنگ کا عملہ اپنے گاہکوں کو فرداً فرداً جانتا پہچانتا تھا۔اور باہمی اعتماد کی فضا قائم تھی جواب نہیں ہے۔مکرم عبد العزیز دین صاحب ویلفیئر سیکرٹری ، مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب ممبر ، مکرم شمس الرحمن بنگالی بارایٹ لاء ممبر، مکرم پروفیسر سلطان محمود شاہد صاحب ممبر، خاکسار کے آنے کے بعد خاکسار کو بطور نائب امام اور جنرل سیکرٹری شامل کر لیا گیا تھا۔مشن کا ماہوار چندہ ان دنوں پچیس تیس پونڈ کے لگ بھگ ہوتا تھا۔چونکہ اس رقم سے بجٹ پوری طرح نہیں چل سکتا تھا۔اس لئے جو کمی رہ جاتی تھی وہ مرکز کے حکم سے ایسٹ افریقہ سے آجاتی تھی اور اس طرح کام چلتا رہتا تھا۔۶۱ میلر وز روڈ کے تین فلیٹ کرایہ پر تھے اس سے ۱۵ پونڈ ہفتہ وار وصول ہو جاتے تھے۔اور اس طرح مجموعی ماہوار آمدنی ۸۰ سٹرلنگ پونڈ کے لگ بھگ ہو جاتی تھی۔مشن ہاؤس سے ملحقہ وسیع باغ کی صفائی کٹائی اور پھلدار درختوں کی نگہداشت ایک مشکل کام تھا۔باغبان رکھنے کی توفیق نہ تھی اس لئے یہ کام عموماً وقار عمل کے ذریعہ ہو جایا کرتا تھا۔گرمیوں میں درخت سیبوں اور ناشپاتیوں سے لد جاتے تھے۔اس میں سے پھل اتار کر اردگرد ہمسایوں میں اور احمدیوں میں تقسیم ہو جایا کرتا تھا۔اور زائد پھل کو مجبوراً زمین میں دبا دیا جاتا تھا۔ان دنوں فریج فریزر تو ہوتے نہ تھے۔پھل گل سڑ جانے سے کیڑے مکوڑوں کا خطرہ ہوتا تھا۔بعد میں جدید مشن ہاؤس اور محمود ہال بن جانے کی وجہ سے یہ درخت کاٹنے پڑے اور اب مشن کے احاطہ میں کوئی پھلدار درخت نہیں ہے۔۱۹۵۷ء میں ہمبرگ بیت الذکر کی تعمیر ہوئی تھی اس سال فرینکفورٹ میں بھی ایک شاندار خانہ خدا بن گیا۔توحید کے اس روحانی مرکز کی بنیاد چوہدری عبداللطیف صاحب انچارج جرمنی مشن نے ۸ مئی ۱۹۵۹ء کو رکھی اور اس کا افتتاح حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نائب صدر عالمی عدالت انصاف ہالینڈ کے مبارک ہاتھوں سے ۱۲؍ ستمبر ۱۹۵۹ء کو ہوا۔فرینکفورٹ کے ایک نہایت اہم اخبار FRANKPURTER RUNDSCHU نے اپنی ۴ار تمبر ۱۹۵۹ء