تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 523 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 523

تاریخ احمدیت 523 تو علامہ اقبال کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اسے ایک گنی بطور انعام دی۔۱۹۵۹ء میں ان مجالس کے روح رواں عبدالعزیز دین صاحب اور حضرت میر عبدالسلام صاحب ہوا کرتے تھے۔جو حضرت مسیح موعود کے رفیق بھی تھے۔آپ کو انگریزی زبان پر زبر دست قدرت حاصل تھی۔اس وقت کے امام مولود احمد خان صاحب دہلی کے رہنے والے تھے۔دہلی یو نیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔آپ اچھے مقرر تھے۔انگریزی زبان بھی بہت اچھی بولتے تھے۔خاکسار ان کا نائب تھا۔لندن پہنچنے کے چند دن بعد میری ملاقات بلال نکل سے ہوئی۔آپ انگریز نو احمدی تھے۔نہایت خوش طبع ، ملنسار اور احمدیت کے شیدائی تھے۔۱۹۲۶ء میں جب بیت الفضل کا افتتاح ہوا تو انگریروں کی طرف سے پہلی نداء آپ نے دی تھی۔حضرت خلیفہ ثانی نے آپ کا نام بلال اسی لئے رکھا تھا۔بلال محل سے میرا تعلق دن بدن مضبوط ہوتا چلا گیا۔اکثر ویک اینڈ پر وہ مشن ہاؤس میں ہی دو دن مقیم ہو جایا کرتے تھے اور مشن کے وسیع باغ کی صفائی کٹائی وغیرہ میں ہاتھ بٹاتے تھے دیسی کھانے بھی بنانے سیکھ لئے تھے۔اور شوق سے تہوار کے دن کوئی نہ کوئی دیسی ڈش تیار کر کے سب کو کھلا با کرتے تھے۔بلال عمل کو حضرت خلیفہ ثانی سے عشق کی حد تک تعلق تھا۔اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔۱۹۵۹ء میں ایک اور نو احمدی انگریز مسٹر سمرز ہوا کرتے تھے۔ان سے بھی میرا گہرا تعلق قائم ہوا۔آپ احمدیت کے شیدائی تھے۔حضرت مسیح موعود کے عشق میں سرشار تھے۔کہا کرتے تھے کہ میرے سرہانے قرآن کریم اور اسلامی اصول کی فلاسفی موجود رہتی ہے اور میں ان پر غور وفکر کرتا ہوں۔ماہوار چندہ میں نہ صرف انتہائی باقاعدہ تھے بلکہ ان دنوں سب سے زیادہ ماہوار چندہ انہی کا ہوا کرتا تھا۔طبعاً خاموش طبیعت کے مالک تھے۔لمبی لمبی نمازیں پڑھا کرتے تھے اور بیت الفضل میں لمبے عرصہ تک خاموش بیٹھ کر ذکر الہی کرتے تھے۔انہی دنوں میری ملاقاتیں انگریز نو احمد یوں مسٹر بانڈ اور مسٹرسٹن جلد ۲۰