تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 37
تاریخ احمدیت 37 جلد ۲۰ ہوسکتا ہے جبکہ مالی لحاظ سے وقف جدید کو مضبوط بنایا جائے۔پس ہمت سے کام لیں اور وقف جدید کو ترقی دیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک میں کام کرنے والوں کے ذریعہ جماعت کی تعداد میں ترقی ہو رہی ہے اور اگر کام بڑھ جائے اور وقف جدید کی مالی حالت بہتر ہو جائے تو اس میں اور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔پس اس تحریک کو کامیاب بنائیں اور نئے سال کے آغاز سے پہلے سے بھی زیادہ ہمت اور جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور وہ آپ کو اپنے فرائض کو سمجھنے اور ان ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ پر عائد کی گئی ہیں۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیلة امسیح الثانی۔۲۷ / دسمبر ۱۹۶۰ء۔ہندوؤں میں تبلیغ کا آغاز اور اس کے شاندار نتائج ۱۹۶۰ء میں تحریک وقف جدید کی طرف سے پاکستان کے ہندوؤں میں تبلیغ کا عملی قدم اٹھایا گیا جس کے بہت شاندار نتائج جلد جلد ظاہر ہونے لگے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد نے وقف جدید کی ایک رپورٹ میں تحریر فرمایا کہ حضرت مصلح الموعود کی دیرینہ خواہش تھی کہ ہندوؤں میں تبلیغ حق کی طرف خاص توجہ دی جائے۔چنانچہ اس عاجز کو بھی حضور نے بارہا ہدایت فرمائی کہ وقف جدید کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ان ہدایات کی روشنی میں ایسے علاقوں کے معلمین کو جہاں ہندو اقوام پائی جاتی ہیں بار بار اس طرف توجہ دلائی جاتی رہی۔لیکن چند سال پہلے تک کوئی خاطر خواہ اور امید افزا نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔چنانچہ ۱۹۶۰ء میں یہ تجویز کی گئی کہ احمدی تربیت یافتہ کمپونڈروں میں تحریک کی جائے کہ وہ اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کریں۔اور اپنے خرچ پر ہندو علاقوں میں جا کر رہائش اختیار کریں۔جہاں طبی پریکٹس کے ذریعہ گزر اوقات کا سامان کرنے کے ساتھ ساتھ تبلیغ حق کا کام بھی کرتے رہیں۔اس تحریک کے نتیجہ میں مکرم محمد سعید صاحب ابن مکرم فیروز الدین صاحب انسپکٹر مال تحریک جدید نے اپنے آپ کو پیش کیا۔اور ضلع تھر پارکر سندھ کے