تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 522 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 522

تاریخ احمدیت 522 ۱۹۶۵ء میں لندن کو دھوئیں سے پاک کر دیا گیا اور تمام کو ملے سے چلنے والی فیکٹریوں کو بند کر دیا گیا۔تو دھند ختم ہوئی۔کوئلے فیکٹریوں کی وجہ سے لندن کی عمارات بھی سیاہ ہو جاتی تھیں۔چنانچہ ہاؤس آف پارلیمنٹ اور بعض اور عمارات کو صاف کرنے پر کروڑوں پونڈ خرچ ہوئے۔تب جاکران کی موجودہ صاف صورت نکل آئی۔ان دنوں عیدین کی تقاریب کے بعد مشن کی طرف سے تمام حاضرین کو دو پہر کا کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ساری ساری رات مشن کے نہ خانے والے باورچی خانہ میں کھانا تیار کیا جاتا تھا۔عبدالعزیز دین صاحب، عبدالرحیم صاحب ماریشس ، مولوی عبدالکریم صاحب، مولوی عبدالرحمن صاحب، شیخ منصور احمد صاحب اور چوہدری منصور احمد صاحب اور بعض دیگر احباب ساری ساری رات کھانے کی تیاری میں لگے رہتے تھے۔اس زمانہ میں کثرت سے غیر از جماعت احباب جن میں ہندوستانی پاکستانی احباب کے علاوہ ترک اور سائپرس کے لوگ بھی عید کی نماز بیت الفضل میں پڑھا کرتے تھے۔اس طرح عید کا سارا دن بیت الفضل سے ملحقہ باغ میں گزر جایا کرتا تھا۔لوگ شام کو چائے کے بعد رخصت ہوتے تھے۔۱۹۳۱ء میں قائد اعظم محمد علی جناح بھی عید الاضحیہ میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے اور کھانے کے بعد ہندوستان کی آزادی پر بیت الفضل کے احاطہ میں ایک ولولہ انگیز تقریر کی تھی۔ہر پندرہ روز بعد مشن ہاؤس میں میٹنگز کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ان میٹنگز میں مسلمان اور غیر مسلم سکالرز خطاب کرتے تھے۔۱۹۵۹ء میں لنڈن یونیورسٹی کے فقہ کے بہت بڑے سکالر Mr۔Anderson تشریف لائے تھے۔اکثر تقریر بھی کرتے اور اگر تقریر نہ ہوتی تو عمومی بحث میں شریک ہو جایا کرتے تھے۔پروفیسر اینڈرسن نے اسلامی فقہ پر بہت ساری کتب تحریر کی ہیں۔جواب شامل نصاب ہیں۔اس قسم کی میٹنگز میں جب علامہ اقبال اور دیگر ہندوستانی اراکین گول میز کانفرنس لندن میں ہوتے تھے تو شرکت کرتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ جب انگریز نواحمدی بچی نے قرآن کریم کی تلاوت کی جلد ۲۰