تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 514
تاریخ احمدیت فصل سوم 514 احمدی مشنوں کی دینی سرگرمیاں جلد ۲۰ جماعت احمدیہ کے عالمی مشن اس سال بھی دعوت الی اللہ میں پورے جوش و خروش اور جذبہ فدائیت سے سرگرم عمل رہے۔۱۹۵۹ء کے بعض قابل ذکر واقعات کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔مشن کی مطبوعہ رپورٹ (فروری تا جولائی ۱۹۵۹ء) کے مطابق مولو داحمد خاں صاحب نگلستان دہلوی امام بہیت فضل لندن نے متعد دکلبوں میں نہایت کامیاب لیکچر دیئے۔ایک بار جے ایم سکول کے ۴۵ طلباء میں تاریخ ( دین حق ) پر تقریر کی جو دلچسپی سے سنی گئی۔خاں بشیر احمد خاں صاحب رفیق نائب امام تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مشن کے مالی استحکام کی جدو جہد میں بھی مصروف رہے جس سے مشن پہلے سے بہت زیادہ مستحکم ہو گیا۔آپ نے ۱۸ ؍ جولائی ۱۹۵۹ء کو سکاٹ لینڈ، نوٹنگھم، بریڈ فورڈ اور لمبیڈز وغیرہ کا دورہ کیا۔چوہدری عبدالرحمن صاحب نے اپنی کار اس مقصد کے لئے پیش کی اور پورے دورے میں آپ کے ساتھ رہے۔یہ دورہ بہت مفید رہا۔چنا نچہ گلاسگو میں چوہدری منصور احمد صاحب ( ابن حضرت چوہدری علی محمد صاحب بی اے بی ٹی ) متفقہ طور پر امیر جماعت اور سیکرٹری مال منتخب ہوئے۔نو نگھم میں جماعت قائم ہوئی اور آزاد صاحب اس کے امیر اور سیکرٹری مال مقرر ہوئے۔دورہ کے ذریعہ متعدد مسلم اور غیر مسلم معززین تک پیغام صداقت پہنچا۔لنڈن مشن کی طرف سے ۲۶ /اکتوبر ۱۹۵۹ء کو پاکستان ہائی کمشنر مقیم انگلستان جنرل محمد یوسف خان کے اعزاز میں وسیع پیمانہ پر استقبالیہ دیا گیا۔امام بیت فضل نے موصوف کو خوش آمدید کہا۔ہائی کمشنر صاحب نے اپنی جوابی تقریر میں جماعت احمدیہ کی ان دینی خدمات کی تعریف فرمائی جو وہ دنیا بھر میں بجالا رہی ہے۔نیز لندن مشن کو اس کی اعلیٰ شہرت اور گونا گوں سرگرمیوں کی بناء پر خراج تحسین پیش کیا اور ان عظیم الشان مساعی کو منظم طور پر جاری رکھنے کے سلسلہ میں احمد یہ قیادت کو مبارکباد پیش کی اور فرمایا کہ یہ مساعی دوسرے مسلمانوں کے لئے قابلِ تقلید مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔آپ نے مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس