تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 508
تاریخ احمدیت 508 جلد ۲۰ قرآن پاک کا ترجمہ موجود تھا لیکن وہ ترجمہ واضح مستند اور مؤثر نہیں ہے۔اسی طرح بیوت الذکر کی تعمیر کے بارہ میں کہا کہ ان کی تعمیر کا کام بہت اہمیت کا حامل ہے اور مجھے خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ یہ کام ہو رہا ہے۔علاوہ ازیں پانچ طلبہ اور تین طالبات کا ایک وفد ملا یا یو نیورسٹی کی طرف سے پاکستان آیا۔یکم مئی ۱۹۵۹ء کو احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور کے ایک گروپ نے مسعود احمد خان صاحب سابق وائس پرنسپل گھانا کی قیادت میں وفد سے ملاقات کر کے جماعت کی مساعی سے آگاہ کیا۔وفد کے قائد مسٹر ای شیریان کو دینی لٹریچر پیش کیا جس کو انہوں نے شکریہ سے قبول کرتے ہوئے کہا : - مختلف دینی مسائل کے حل کے لئے جو نقطہ نظر جماعت احمدیہ نے پیش کیا ہے وہ زیادہ قابل قبول، مؤثر اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ہے۔اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کو انڈونیشیا، افریقہ اور یورپی ممالک میں بہت مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔66 ۲۳ / مارچ ۱۹۵۹ء صدر پاکستان محمد ایوب خان صاحب کی طرف سے شکریہ کو یوم پاکستان کی لوکل انجمن احمد یہ ربوہ کے صدر عمومی صاحب نے جماعت احمدیہ کی طرف سے صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان صاحب کی خدمت میں مبارکباد اور دعا کا پیغام بھیجا جس کے جواب میں اسسٹنٹ سیکرٹری صدر مملکت کی طرف سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ یوم پاکستان کی تیسری سالگرہ کے موقعہ پر آپ نے مبارکباد کا جو پیغام بھیجا ہے اس پر صدر مملکت نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ میں ان کی طرف سے آپ کا اور دوسرے ممبران ایسوسی ایشن کا شکر یہ ادا کروں۔“ آپ کا مخلص۔دستخط (اے وحید ) اسٹنٹ سیکرٹری صدر مملکت ۳۸