تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 497
تاریخ احمدیت 497 جلد ۲۰ بہت مرنجاں مرنج، سادہ طبیعت اور علم دوست بزرگ تھے۔نماز باجماعت اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتے تھے۔آپ کے شاگردوں کا سلسلہ بہت وسیع تھا۔مولوی برکات احمد صاحب را جیکی ناظر امور عامہ قادیان نے آپ کی وفات پر لکھا:۔خاکسار کو بھی ماسٹر صاحب مرحوم سے چھٹی ساتویں اور آٹھویں جماعت میں تو تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ان ایام کے واقعات سے ایک ایک کر کے دل و دماغ کے سامنے سے گزر رہے ہیں۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قدیمی اساتذہ میں سے بفضلہ تعالیٰ ہر استاد تعلیمی، تربیتی اور اخلاقی اعتبار سے ایک کامل نمونہ تھا۔لیکن بعض اساتذہ کو دوسرے اساتذہ کے مقابل پر بعض خاص خصوصیات اور امتیازی پہلو حاصل ہوتے ہیں۔محترم رحمانی صاحب میں یہ خاص وصف پایا جاتا تھا کہ وہ اپنے چھوٹی عمر کے شاگردوں کو کبھی آدھے نام سے نہ پکارتے تھے بلکہ اکثر نام کے ساتھ ”میاں“ وغیرہ کا لفظ بھی استعمال کرتے اور اس طرح بچوں کو عزت نفس اور اخلاق کا نہایت عمدہ سبق دیتے۔خاکسار نے تقریباً تین سال تک ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔لیکن مجھے یاد نہیں کہ اس عرصہ میں میں نے کبھی آپ کے منہ سے معمولی گالی یا سخت کلامی سنی ہو۔آپ کی گفتگو نہایت ادیبانہ اور مہذب طریق پر ہوتی تھی اور دورانِ تعلیم میں آپ دلچسپ تاریخی واقعات سنایا کرتے تھے۔چنانچہ نادر شاہ کے دہلی پر حملہ آور ہونے اور اس کی لال قلعہ میں مہمانی شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر، سلطان ٹیپو اور سلطان صلاح الدین ایوبی وغیرہ شاہانِ اسلام کے متعلق کئی لطائف اور واقعات سب سے پہلے ہم نے رحمانی صاحب کے منہ سے ہی سنے اور سکول کی تعلیم سے فراغت کے بعد اس قسم کے واقعات نے ہمارے اندر تاریخی مطالعہ کا ذوق پیدا کر دیا۔جناب رحمانی صاحب تعلیمی کورس کے پڑھانے کے علاوہ عام معلومات پر مشتمل بہت سی باتیں بیان کرتے اور ان باتوں کو سن کر اکثر طلبہ کو کورس کے علاوہ دیگر کتب پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا رہا۔آپ اپنی گفتگو میں بہت سے موزوں اشعار جن میں آپ کے والد ماجد اور خود آپ کے اپنے اشعار بھی شامل ہوتے۔اپنے مخصوص لہجہ میں پڑھتے اور اس طرح طلبہ کی دلچسپی کو بڑھاتے رہے۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور دیگر افراد بیت سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو دلی محبت اور خلوص تھا جو اکثر آپ کے کلمات سے مترشح ہوتا رہتا تھا۔نظام سلسلہ کی پابندی ، خلاف منشاء بھی خندہ پیشانی سے کرتے۔دوران تعلیم