تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 495
تاریخ احمدیت 495 جلد ۲۰ دی۔وہاں گندم کی روٹی دیکھ کر مولوی صاحب نے فرمایا کہ آج چار سال کے بعد گندم کی روٹی میسر آئی ہے ورنہ جاپانی قبضہ میں تو چاول بھی بمشکل نظر آیا کرتے تھے۔گندم کا تو ذکر ہی کیا۔مولوی صاحب نے اپنے دفتر میں ایک ملائی احمدی سکول ماسٹر کو کچھ اجرت پر رکھا ہوا تھا۔جو اپنے فارغ اوقات میں انگریزی اور عربی خطوط ٹائپ کر دیا کرتا تھا اور سائیکلو سٹائل مشین پر تبلیغی ہینڈ بل بھی طبع کر دیا کرتا تھا۔جو مولوی صاحب تقسیم کیا کرتے تھے۔انہی دنوں ایک ڈچ ڈاکٹر بھی وہاں آیا تھا۔یہ شخص غیر مبائع تھا مگر مولوی صاحب سے دو ہفتے تک گفتگو کر کے مبائع ہو گیا تھا۔بڑا نیک بخت ، تہجد گزار اور شریف انسان تھا۔اب یاد نہیں رہا۔مولوی صاحب کی زندگی ہر لحاظ سے بڑی سادہ تھی۔لباس بھی سادہ تھا۔تکلف نام کو بھی نہ تھا۔رات بیت الذکر کے فرش پر ہی سو رہتے تھے۔اپنے وعظ ونصیحت میں زیادہ تر اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے پر زور دیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اپنے اعمال سے ( دین حق ) کی سچائی کا ثبوت دو۔اور جو کہتے ہو اس کے مطابق عمل بھی کر کے دکھاؤ۔آپ نے ملائی زبان میں سلسلہ کی بعض کتب کے تراجم بھی کئے تھے۔ملائی زبان پر خوب عبور حاصل تھا۔ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے جب قرآن مجید حفظ کیا تو آخری پارے مولوی صاحب ان سے روزانہ سنا کرتے تھے کہ اچھی طرح حفظ ہو گئے ہیں کہ نہیں؟ آخر جولائی ۱۹۴۶ء میں حکیم محمد نذیر صاحب رخصت پر ہندوستان آئے۔مولوی صاحب سے ملاقات کے لئے گئے تو مولوی صاحب کہنے لگے محمد نذیر ! دل میرا بھی بہت چاہتا ہے کہ وطن جاؤں مگر جب تک حضرت صاحب کی اجازت نہ آجائے کیونکر جا سکتا ہوں۔پھر فرمانے لگے کہ تم جو جا رہے ہو حضرت صاحب سے ملاقات کرنا اور میرے تمام حالات عرض کر دینا۔تم اپنی طرف سے اشارہ و کنایہ کچھ کہہ سکو تو کہہ دینا مگر میری طرف سے ہر گز نہ کہنا کہ واپس آنے کو دل چاہتا ہے۔‘‘ اس کے بعد حکیم صاحب کو حضرت صاحب کے حضور عرض کرنے کے لئے مختصر نوٹ لکھوائے کہ ان کو سامنے رکھ کر تفصیل سے عرض کر دینا۔حکیم صاحب ۲ / اگست ۱۹۴۶ء کو قادیان پہنچے۔حضرت صاحب ان دنوں اپنی نو تعمیر شدہ کوٹھی واقع ڈلہوزی میں تشریف فرما تھے۔حکیم صاحب نے راقم الحروف سے کہا کہ چلو ڈلہوزی چلیں۔حضرت صاحب کی زیارت کر آئیں۔میں نے حکیم صاحب کے چہرے پر اشتیاق کی جھلک کچھ زیادہ ہی دیکھ کر پوچھا کہ کیا کوئی خاص بات ہے مگر مجھے اس وقت کچھ نہ بتایا۔یہی کہا کہ بس