تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 494
تاریخ احمدیت 494 جلد ۲۰ ضروریات زندگی تو کجا معمولی سادہ کھانا بھی مشکل سے میسر آتا تھا۔مگر مولوی صاحب ان دونوں خاندانوں کو تسلی دیتے رہتے اور کہا کرتے تھے کہ تم منہ میں کچھ ڈالو گے تو تب خود کھاؤں گا۔کمال دلسوزی سے ان کی ضروریات پوری کرتے۔انہی ایام میں بعض اوقات مولوی صاحب پر ایسے آئے کہ سرس کی قسم کے ایک درخت کے پتے ابال کر کھایا کرتے تھے۔“ آخر کار چار سال متواتر غیر متوازن غذا کھانے اور سختیاں جھیل جھیل کر مولوی صاحب کی صحت بالکل تباہ ہوگئی اور مرض بیری بیری (BERRY BERRY) ہو گیا اور جسم محض ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا۔انہی ابتدائی ایام میں مولوی صاحب نے حکیم محمد نذیر صاحب سے کہیں ذکر کر دیا کہ ان کے ذمہ ایک معقول رقم قرض ہو چکی ہے جس کے اتارنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔تو حکیم صاحب نے جھٹ اپنی گرہ سے ۳۰۰ ڈالر سنگا پوری ایک ڈالر سنگا پوری = ڈیڑھ روپیہ ) مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا اور کیمپ میں آکر دوسرے احمدی دوستوں سے بھی ذکر کر دیا اور ان سب کو غیرت دلائی کہ ہمارا مبلغ سخت پریشانی میں ہے کیوں نہ ہم سب مل کر اس کی امداد کریں؟ چنانچہ تمام دوستوں نے اپنی ہمت سے بڑھ چڑھ کر ایک معقول رقم جمع کی اور چپکے سے مولوی صاحب کے حوالے کر دی جس سے نہ صرف مشن کا تمام قرضہ اتر گیا بلکہ مولوی صاحب کی صحت پر بھی بہت اچھا اثر پڑا۔کیپٹین ڈاکٹر حافظ بدرالدین صاحب ( حال بورنیو ) اور کیپٹن ڈاکٹر عمرالدین صاحب ( حال راولپنڈی) نے علاج معالجہ بھی شروع کیا جس سے صحت بہتر ہو گئی اور مولوی صاحب و چوبند ہو گئے۔پھر تو سب احمدی دوستوں کا معمول ہو گیا کہ جو بھی مولوی صاحب سے ملاقات کے لئے جاتا کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لے کر جاتا۔کوئی پھل لئے جا رہا ہے کوئی کپڑے، کوئی ڈبہ میں بند فروٹ۔حکیم محمد نذیر صاحب نے تو معمول ہی بنالیا تھا کہ اپنی ڈیوٹی سے فارغ اوقات میں مشن ہاؤس میں حاضری دیتے۔مولوی غلام حسین صاحب نے سخت تکالیف برداشت کیں۔فاقے بسر کئے۔مگر بنگ میں جو رقم ( ڈھائی ہزار ڈالر ) جمع کرائی ہوئی تھی اسے ہاتھ نہ لگایا کیونکہ وہ جماعتی چندوں کی رقم تھی۔اور بوجہ سلسلہ مواصلات بند ہونے کے مرکز میں نہ بھجوا سکے تھے۔بعد میں راستے کھلنے پر انہوں نے وہ رقم قادیان بھجوا دی۔سبحان اللہ کیا قربانی ہے۔حکیم صاحب نے اپنی پہلی ملاقات کے بعد مولوی صاحب کو اپنے کیمپ میں دعوت طعام چاق