تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 493 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 493

تاریخ احمدیت 493 تعارفی خط دیا۔وہ ان سے مل کر بے حد خوش ہوئے اور بہت گرم جوشی سے باتیں ہوئیں۔تقریباً دو گھنٹے کے بعد رخصت ہو کر واپس چلے آئے۔حکیم صاحب نے واپس کیمپ میں آکر دیگر احمدی دوستوں کو بھی مولوی صاحب سے ملاقات کا ذکر سنایا۔تمام دوست خوش ہوئے۔اگلے جمعہ کو بہت سے دوست جمعہ پڑھنے کے لئے مشن ہاؤس پہنچ گئے۔مولوی غلام حسین صاحب اس دن بے حد مسرور تھے۔جاپانی قبضہ سنگا پور کے بعد پہلی مرتبہ احمدیوں سے ملاقات ہوئی۔اور ان میں سے بعض خاص قادیان کے باشندے تھے۔پھر کیا تھا ہر جمعہ اور اتوار کو مشن ہاؤس میں اجتماع ہونے لگا۔پچاس ساٹھ کے قریب احمدی جن میں افسر اور ماتحت کبھی ہوتے تھے آیا کرتے۔باجماعت نماز ادا ہوتی۔مولوی صاحب کی ایمان افزاء تقریریں، نهایت درجه سبق آموز گزشتہ واقعات بے حد لطف دیتے تھے۔سنگا پور پر جاپانی قبضہ سے پہلے مولوی صاحب موصوف خود کپڑے کی پھیری لگایا کرتے تھے جس سے وہ کافی کچھ کما لیا کرتے تھے اور جدھر نکل جاتے ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کرتے اس کے علاوہ انہوں نے ایک موٹر بوٹ خریدی ہوئی تھی جو مختلف مقامات کے درمیان لوگوں کا سامان تجارت لے جاتی تھی۔اس پر ایک آدمی ملازم رکھا ہوا تھا۔اس کی بھی آمدنی ہوتی تھی۔تیسرے موٹر لاری بھی خرید لی ہوئی تھی۔وہ بھی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ تھا۔چوتھے مولوی صاحب گا ہے گا ہے سیالکوٹ سے کھیلوں کا سامان منگوا کر فروخت کر لیا کرتے تھے۔مگر جاپانی قبضہ کے بعد یہ تمام ذرائع آمدنی مسدود و گئے۔اوپر سے بوجہ جنگ ڈاک کا سلسلہ قطعی طور پر بند تھا۔مولوی صاحب کو مرکز سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں پہنچ سکتی تھی۔غرضیکہ سخت ابتلاء کے دن تھے اور نہایت تنگی سے گزر اوقات کرتے تھے۔ہو پھر مولوی صاحب اکیلے ہوتے تو ایک بات بھی تھی۔انہوں نے دو چینی خاندانوں کو جن کے کمانے والے افراد مر گئے تھے محض خوفِ خدا کر کے اپنے مکان میں پناہ دے رکھی تھی۔اور ان کے ہرقسم کے اخراجات کے کفیل تھے۔ان دنوں بوجہ فوجی حکومت ہونے کے تمام انتظامات درہم برہم تھے۔جلد ۲۰