تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 34 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 34

تاریخ احمدیت 34 جلد ۲۰ سردار صاحب موصوف نے اپنے اس مضمون میں تحریک وقف جدید کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس جماعت کے مذہبی راہنما نے حال ہی میں وقف جدید“ کے نام پر ایک تحریک چلانے کا انقلابی پروگرام بنایا ہے۔اس پروگرام کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ہر ایک احمدی عورت مرد سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ دُنیا میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے کہ جس تک ( دین حق ) کا پیغام نہ پہنچ سکے۔بالفاظ دیگر دنیا کی گلی گلی ، گھر گھر اور کوچہ بکوچہ میں حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تعلیم پہنچانا اس تحریک وقف جدید کا نصب العین ہے یہ تحریک اس بات کا سکہ بٹھانا چاہتی ہے کہ ( دین حق ) نسل انسانی کی زندگی سے متعلق ایک کامل معاشرہ پیش کرتا ہے۔زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس سے متعلق ( دینِ حق ) نے راہنمائی نہ کی ہو۔احمد یہ جماعت کا یہ دعوی ہے کہ ایک گھاس بیچنے والے سے لے کر بادشاہ تک سب کو ( دینِ حق ) کے جھنڈے تلے لانا اس جماعت کا نصب العین اور مقصد حیات ہے“۔تحریک وقف جدید کے چندوں کا ذکر کرتے ہوئے سردا امر سنگھ جی دا سانجھے اپنے اس مضمون میں تحریر فرماتے ہیں :- مالی طور پر اس تحریک کو ایک زندہ اور ٹھوس تحریک بنانے کے لئے ( حضرت ) میرزا صاحب (اطال الله بقاہ ) نے اعلان کیا ہے کہ کم از کم آٹھ آنے مہینہ اور بڑے بڑے زمیندار دس دس ایکڑ زمین اس تحریک کے مقصد کو پورا کرنے کی غرض سے چندہ کے طور پر دیں۔تا کہ اس تحریک کے کارکن کھانے پینے کی ضروریات سے بے فکر ہو کر تمام دنیا میں پھیل جائیں۔صحیح معنوں میں کارکن وہی بن سکتا ہے جو اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے اعلائے کلمتہ اللہ کرے۔کارکن وہی بن سکتا ہے جس کا دل ایمانداری کے نور سے منور ہو چکا ہو۔دنیا دار کے لئے اس تحریک میں کوئی جگہ نہیں ( حضرت ) میرزا صاحب نے اس مقاصد پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ میرا راستہ پھولوں کی سیج