تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 35
تاریخ احمدیت 35 جلد ۲۰ نہیں ہے۔اس لئے جن کے پاؤں نازک ہوں وہ میری طرف نہ آئیں۔کیونکہ یہاں قدم قدم پر کانٹے بکھرے ہوئے ہیں۔نیز وہ لوگ آئیں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔جہاد کی تشریح کرتے ہوئے (حضرت) میرزا (صاحب) نے فرمایا ہے کہ (دینِ حق ) میں جہاد فرض ہے۔لیکن آج جہاد کی شکل بدل گئی ہے۔اب تلوار کی نہیں بلکہ روحانی جہاد کی ضرورت ہے۔علم و عمل کی بلندی سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بنی نوع انسان تک پہنچانا نہایت ضروری ہے اور یہی روحانی جہاد ہے۔اس لئے جہاد میں کمر بستہ ہو کر وہ لوگ شامل ہوں جو علم و عمل میں پورے ہوں“۔حضرت امام جماعت (اطال الله بقاه ) کی جاری کردہ تحریک وقف جدید کے مقاصد کو بیان کرنے کے بعد سردار صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ :- ”ہم نے تحریک ”وقف جدید کے مقاصد مختصر الفاظ میں ناظرین کی خدمت میں اس لئے پیش کئے ہیں کہ قوموں کی دوڑ میں کل کی پیدا ہوئی ایک جماعت کس طرح ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہی ہے کتنے ولولے اور جذبے ہیں ان مٹھی بھر لوگوں کے دلوں میں جو تمام دنیا پر اپنے خیالات کی فتح کے خواہشمند ہیں۔اس کے بعد سردار صاحب نے سکھ قوم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : - سکھ پنتھ دانیوں کا پنتھ ہے دس گورو صاحبان نے جو قربانیاں کی ہیں وہ دنیا کی تاریخ میں روشن ہیں گوردواروں کے ذریعہ آیا ہوا چڑھاوا مجموعی طور پر شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے پاس آتا ہے۔یہ اچھے طریقے ہیں۔اچھا دھرم اور اچھی تاریخ رکھنے کے باوجود اگر کوئی مذہبی تحریک موجودہ سکھ قوم پیدا نہیں کرسکی تو اس کا سبب کیا ہے اس سے متعلق کسی ایک پارٹی یا شخصیت پر الزام دینے سے گریز کرتے ہوئے ہم اپنے دلوں کو ٹولنے کی سفارش کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اگر یہ سچ ہے تو کیا ربوہ کی اس تحریک کو دیکھ کر سکھ پنتھ میں بھی کوئی جذبہ پیدا ہوگا ؟ ٣٣